Bharat Express DD Free Dish

Israel Palestine Conflict

غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ کے مطابق، غزہ میں کم از کم 10,569 ہلاک ہوئے جن میں 4,324 بچے، 2,823 خواتین، 649 بزرگ اور 26,475 زخمی ہوئے۔

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مبینہ اسرائیلی جارحیت کو حمایت دینے والی کمپنیوں کے پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں گے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرطلمس نے کہا کہ ان کمپنیوں کے سامان پھینک دیں گے۔

فلسطینی اتھارتی کے صدر محمود عباس کوغزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔ یہ مدت ختم ہونے کے بعد فلسطینی صدر کے قافلے پرحملہ کیا گیا۔

ترک پارلیمنٹ نے بروز منگل کوکا کولا اور نیسلے مصنوعات کو پارلیمانی ریستورانوں سے غزہ میں تنازع کے دوران اسرائیل کی مبینہ حمایت پر ہٹا دیا ہے۔اس اقدام کی تصدیق ترک پارلیمنٹ کے ایک بیان سے ہوئی۔دونوں کمپنیوں نے فوری طور پر روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر رئیسی اور بھارتی وزیر اعظم مودی نے غزہ کی صورتحال پر فون پر بات چیت کی۔

غزہ کی وزارت صحت نے کہا کہ اب تک کم از کم 10,022 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 4,104 بچے بھی شامل ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اسپتال زخمیوں کا علاج نہیں کرسکتے ہیں۔ کھانے اور پینے کے لئے صاف پانی ختم ہو رہا ہے اور مالی امداد بھی مناسب نہیں ہے۔

Israeli IDF control over military compound in Gaza: گزشتہ ایک ماہ سے حماس اورفلسطین کے خلاف اسرائیل کے ذریعہ کی جارہی کارروائی کے بعد پیر کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر جم کرحملہ کیا ہے۔

پاکستان کے جمعیۃ علمائے اسلام پارٹی کے سربراہ نے قطر میں حماس لیڈران سے ملاقات کی۔ مولانا فضل الرحمان نے حماس سربراہ سے بھی ملاقات کی اور ساتھ دینے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کی نا انصافی کے خلاف متحد ہوں۔

Israel-Palestine War: اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس درمیان غزہ پٹی کے ایک اور پناہ گزیں کیمپ میں دھماکہ ہوا ہے۔ حالانکہ حملے سے متعلق اسرائیلی فوج نے فوراً کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ واقعہ خطرناک ،شرمناک اور ناقابل بیاں ہے۔ غزہ میں تقریباً دس ہزار سے عام لوگ اسرائیل کے حملہ میں جاں بحق ہوئے ہیں،ان دس ہزار میں سے تقریباً پانچ ہزار بچے ہیں۔’سیز فائر پر فوری عملدرآمد کیا جائے‘