Bharat Express DD Free Dish

iran

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تاریخ کے سب سے سخت حکمرانوں میں شمار ہونے والے خامنہ ای مارے گئے ہیں اور یہ ایران کے عوام اور پوری دنیا کے لیے انصاف ہے۔

ابوظہبی نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کو اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران امریکی صدر نے حماس سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی اظہارِ خیال کیا اور بورڈ آف پیس کو عالمی قیادت کا اب تک کا سب سے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیڈر اس فورم کے ذریعے عالمی امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینئر حکام نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایران سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے درکار تمام افواج مارچ کے وسط تک تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایران سے اہم خبریں سامنے آرہی ہیں۔ جنوبی بندرگاہی شہربندر عباس میں ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 8 منزلہ عمارت کی دو منزلیں گرگئیں اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ دھماکے کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہے۔