Bharat Express DD Free Dish

iran

امریکی صدر ٹرمپ نے بیرون ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ قیادت کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی تبدیلی کی حمایت کریں اور اگر چاہیں تو سیاسی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تعاون کریں گے انہیں مکمل استثنیٰ اور سکیورٹی فراہم کی جائے گی، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکہ 1984 سے ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیتا آیا ہے، جس کی وجہ خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بتایا جاتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر سی بی ایس ای نے بیرون ملک مقیم بھارتی طلبہ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے 2 مارچ 2026 کو منعقد ہونے والے دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کو فوری طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

خامنہ ای کی موت کی خبر کے بعد پورے جموں و کشمیر میں حالات حساس بنے ہوئے ہیں اور پولیس و انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’’انصاف‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تاریخ کے سب سے سخت حکمرانوں میں شمار ہونے والے خامنہ ای مارے گئے ہیں اور یہ ایران کے عوام اور پوری دنیا کے لیے انصاف ہے۔

ابوظہبی نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کو اپنی سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی کے دوران کچھ امریکی فوجیوں کی جان جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں اس طرح کے نقصانات ممکن ہوتے ہیں، لیکن یہ قدم مستقبل کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

اجلاس کے دوران امریکی صدر نے حماس سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی اظہارِ خیال کیا اور بورڈ آف پیس کو عالمی قیادت کا اب تک کا سب سے اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیڈر اس فورم کے ذریعے عالمی امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز امریکی قومی سلامتی کونسل کے سینئر حکام نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ایران سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے درکار تمام افواج مارچ کے وسط تک تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔