Bharat Express DD Free Dish

iran

ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”

ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران بھی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کے روز استنبول میں کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایران سے اہم خبریں سامنے آرہی ہیں۔ جنوبی بندرگاہی شہربندر عباس میں ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 8 منزلہ عمارت کی دو منزلیں گرگئیں اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ دھماکے کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہے۔

ایران پراگلے کچھ گھنٹوں میں انٹرنیشنل میڈیا رپورٹوں کے مطابق، بڑا حملہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی وجہ سے ایران اوراسرائیل کے ہوائی علاقوں سے گزرنے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کی اولین ترجیح تشدد کو روکنا ہے، ساتھ ہی ایران کے حکام کی جانب سے موصول ہونے والے نجی پیغامات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں چاہتے کہ تہران کی سڑکوں پر لوگوں کی جانیں جائیں، لیکن بدقسمتی سے فی الحال ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ برسوں کے جبر کے باعث ایران کی قیادت نے خود ہی اس بدامنی کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق،انہوں نے بہت غلط کام کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اب اسی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت والی حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پر ہیں۔ یہ احتجاج بڑھتی مہنگائی، خراب معاشی حالات اور سکیورٹی فورسز کی سخت گیر کارروائیوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ ایران کے جلا وطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 8 بجے احتجاج کی اپیل کی تھی۔

اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ میں وینزویلا میں ہونے والی پیش رفت پر شروع ہی سے نظر رکھے ہوئے ہوں۔ اٹلی نے اپنے اہم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مادورو کی جانب سے خود اعلان کردہ انتخابی جیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت کی اور ہمیشہ وینزویلا کی عوام کی جمہوری تبدیلی کی امیدوں کی حمایت کی ہے۔

ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے دو صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔