Bharat Express DD Free Dish

iran

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری سے متعلق کسی بھی اقدام کے لیے امریکہ کی حمایت ضروری ہے۔ اس دوران اسرائیل اور صومالی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے تعلقات ابراہم معاہدوں کی روح کے مطابق استوار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے علاوہ صومالی لینڈ کے صرف تائیوان کے ساتھ باضابطہ تعلقات ہیں۔

اگرچہ نئی امیگریشن پالیسی کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں ہوا ہے، لیکن اگر یہ نافذ ہوتی ہے تو پابندی والے ممالک کے شہریوں کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔ یہ پالیسی قانونی امیگریشن کے خلاف ٹرمپ کی کارروائیوں میں ایک بڑی تیزی ہوگی، جس کی وجہ سے شہری حقوق کے گروپوں کی طرف سے نئی قانونی چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔

ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن حملہ ہوا توجواب دیں گے۔ ایران نے فوجی تیاریاں تیزکردی ہیں اور اپنے جوہری پروگرام کوآگے بڑھا رہا ہے۔ کشیدگی کے باعث جنگ کا امکان بڑھ گیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کہا ہے کہ ایران کی سرحد کے قریب ہونے والے تمام منصوبوں میں ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘‘ کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دنوں تک حملے جاری رہے جس سے دونوں ممالک کے انفراسٹرکچر کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھایا تو امریکہ زیادہ سوچے سمجھے بغیر دوبارہ ایران پر بمباری کرے گا۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

واضح رہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

قطر میں موجود العبید امریکی ایئربیس پر ایران نے کل چھ میزائلیں داغی ہیں، جن کو فضا میں ہی مار گرایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران میں اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، جس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات دونوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

ایران ایک بارپھرسرخیوں میں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ 10 دنوں زیادہ سے جنگ جاری ہے۔ اب اس جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا ہے۔ اس نے ایران کے نیوکلیئرٹھکانوں پرحملہ کردیا ہے۔ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صنعتی گھرانے کا ہیڈ کوارٹرکئی سال تک ایران کے دارالحکومت تہران میں رہا۔