Bharat Express DD Free Dish

iran

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے رپورٹ کیا کہ ہفتے کے روز جنوبی ایران کی ایک بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جھٹکا دیتے ہوئے ایران پر حملے کی تجویز مسترد کر دی اور عمان میں براہ راست مذاکرات کا اعلان کر دیا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کے پیغام پر ان کے ملک کے ردعمل نے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جن تنظیموں نے ہتھیار ڈالنے کی بات کہی ہے، ان میں کتائب حزب اللہ اور نجبہ گروپ سرفہرست ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ کارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاسداران انقلاب گارڈ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے،  ایران کو نیوکلیئر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کا پھیلاؤ روکنا ہوگا۔

ایران کو خود پر حملے کا خدشہ ہے اور اس کے پیش نظر اس نے اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے اور شام میں سینکڑوں اہداف پر حملے کیے ہیں تاکہ یہودی ریاست کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ نئے محاذ کو کھولنے سے روکا جا سکے۔

ایران میں 1979 کے امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد سے، (جس میں درجنوں امریکی یرغمالیوں نے 444 دن تہران میں قید میں گزارے)، ایران نے اکثر مغربی ممالک سے جڑے قیدیوں کو مذاکرات میں سودے بازی کے لیے استعمال کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ھیئت تحریر الشام ملیشیا اور دیگر باغیوں سے رابطے میں ہیں، شامی باغیوں کے خلاف پابندیوں پر نظر ثانی ان کے رویے اور کارکردگی سے مشروط ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سیزفائر ک اعلان ہوچکا ہے، جلد ہی اسرائیلی فوجی لبنان سے لوٹ جائیں گے۔ 30 ستمبر سے اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی حملے کی شروعات کی تھی اور تقریباً 2 ماہ بعد جنگ بندی معاہدہ کرلیا گیا ہے۔ تاہم ایسی کیا وجہ ہے کہ تمام عالمی دباؤ کے باوجود غزہ میں سیز فائر سے انکار کرنے والے نیتن یاہو کو اس معاہدے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔