Bharat Express DD Free Dish

Iran Port Explosion: ایران کے ’’شہید رجائی بندرگاہ‘‘ پر ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 25 تک پہنچی، صورت حال اب قابو میں

ایران کے مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ پر ہونے والے زبردست دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے اور 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق ایران کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ پر ہونے والے زبردست دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے اور 800 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ ہفتے کے روز جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے قریب شہید رجائی بندرگاہ پر ہوا، جہاں سے دنیا کی تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ یہ دھماکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے مذاکرت کے تیسرے دور کے انعقاد کے دن ہوا ہے۔

بندرگاہ کے کسٹم آفس کے مطابق ممکنہ طور پر دھماکہ خطرناک اور کیمیائی مواد کے ذخیرہ کرنے والے ڈپو میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہوا۔ ایک علاقائی ہنگامی اہلکار نے بتایا کہ کئی کنٹینرز آگ لگنے کے سبب ایک ساتھ پھٹ گئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے صوبائی عدلیہ کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے اتوار کو 25 افراد کے ہلاک ہونے کی تازہ ترین تعداد بتائی۔ سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ تقریباً 800 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

آگ قابو میں ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی

وہیں سرکاری ٹی وی کے ایک نمائندے نے دھماکے کے تقریباً 20 گھنٹے بعد جائے وقوعہ سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’آگ پر قابو پا لیا ہے، لیکن ابھی تک آگ مکمل طور پر بجھی نہیں ہے۔‘‘ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اسے 50 کلومیٹر (30 میل) دور تک محسوس کیا گیا اور اس کی آواز سنائی دی۔

دریں اثنا ایران کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ بندرگاہ کے اہم علاقوں میں صورت حال مستحکم ہو گئی ہے۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ کارکنوں نے کنٹینرز کی لوڈنگ اور کسٹم کلیئرنس دوبارہ شروع کر دی ہے۔ دھماکے کے سبب ہونے والے جھٹکے کی لہر اتنی شدید تھی کہ بندرگاہ کی زیادہ تر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read