Bharat Express DD Free Dish

Explosion at Iranian port: ایران کا ’شہید رجایی بندرگاہ‘ سخت دھماکے سے دہلا، 281 افراد زخمی

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے رپورٹ کیا کہ ہفتے کے روز جنوبی ایران کی ایک بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی۔

تصویر: اے ایف پی

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے رپورٹ کیا کہ ہفتے کے روز جنوبی ایران کی ایک بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی۔ IRNA نے ایران کے نیشنل ایمرجنسی آرگنائزیشن کے ترجمان مجتبیٰ خالدی کے حوالے سے یہ اعداد و شمار بتائے۔ یہ دھماکہ ’’بندر عباس‘‘ کے باہر شہید رجائی بندرگاہ پر ہوا، جو اسلامی جمہوریہ کے لیے کنٹینر کی ترسیل کی ایک بڑی سہولت ہے جو ایک سال میں تقریباً 80 ملین ٹن (72.5 ملین میٹرک ٹن) سامان ہینڈل کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دھماکے کے بعد دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ دھماکے کے مرکز سے کئی کلو میٹر دور بھی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ حکام نے ابھی تک دھماکے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔ ایران میں صنعتی حادثات ہوتے رہتے ہیں، خاص طور پر اس کی تیل کی تنصیبات پر جو بین الاقوامی پابندیوں کے تحت ہیں۔ لیکن ایران کے سرکاری ٹی وی نے خاص طور پر کسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں دھماکے یا نقصان سے انکار کیا ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک صوبائی اہلکار مہرداد حسن زادہ نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امدادی کارکن علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ دیگر افراد جائے وقوعہ کو خالی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حسن زادہ نے تفصیل بتائے بغیر کہا کہ دھماکہ شہر کی شہید رجائی بندرگاہ پر کنٹینرز میں ہوا۔ سرکاری ٹی وی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ دھماکے کی وجہ سے ایک عمارت گر گئی ہے۔ واضح رہے کہ رجائی بندرگاہ ایران کے دارالحکومت تہران سے تقریباً 1,050 کلومیٹر جنوب مشرق میں آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے تیل کی تجارت کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read