Iran America Tension: ایران کو خود پر حملے کا خدشہ ہے اور اس کے پیش نظر اس نے اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے جوہری مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ اس نے فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا ہے۔ یہ معلومات برطانیہ کے اخبار ٹیلی گراف نے ایک رپورٹ کے ذریعے دی ہے۔
اس سے قبل امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ دونوں کو اسرائیل کے اس سال بڑی ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کے مبینہ منصوبے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران برسوں سے اپنی جوہری تنصیبات کو مضبوط بنا رہا ہے لیکن گزشتہ سال اسرائیل کے پہلے حملے کے بعد اس میں تیزی آئی ہے۔ ایران نے یہ قدم اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ مشترکہ فوجی آپریشن کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان اٹھایا ہے۔
ایران نے ہر شہر میں جاری کیا ہائی الرٹ
اسی دوران امریکی خبر رساں ادارے Axios کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تہران کے قریب پارچین ملٹری کمپلیکس پر فضائی حملہ کیا۔ ٹیلی گراف کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’’وہ صرف حملے کا انتظار کر رہے ہیں اور ہر رات اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ہر چیز ہائی الرٹ پر ہے، یہاں تک کہ ایسی جگہوں پر بھی جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔‘‘
امریکہ نے ایران پر لگا ئیں پابندیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف پابندیوں کی اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ یکطرفہ طور پر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے سے نکل گیا اور تہران پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کا الزام لگایا۔ دریں اثنا، تہران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ معاہدے پر زور دیا تھا لیکن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس ماہ (15 فروری) کے شروع میں کہا تھا کہ ’’امریکہ کے ساتھ بات چیت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘ پھر ایک دن بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف کام مکمل کرے گا۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
