Bharat Express DD Free Dish

Gujarat High Court

ہائی کورٹ میں درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیارکیا گیا کہ گجرات لینڈ ریوینیو ایکٹ ایسے احکامات کے خلاف اپیل کا قانونی حق فراہم کرتا ہے اور اپیل دائر کرنے کے لئے 90 دنوں کی مدت مقرر ہے۔ صرف 5 دن میں انہدام کا حکم نافذ کرنے کی ہدایت نہ صرف اس قانونی حق کو عملاً سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اصولِ انصاف کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیردوے نے تقریباً ایک سال تک اس اہم مقدمہ کی یومیہ کی بنیاد پرحتمی سماعت کی تھی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج سنایا گیا، دورکنی بینچ نے ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پربھی سماعت کی۔ کل 49 ملزمین میں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے جمعیۃ علماء احمد آباد(گجرات) کے تعاون سے39 ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔

گجرات ہائی کورٹ نے بیف رکھنے کے الزام میں 7 سال کی سزا کاٹ رہی خاتون کی سزا معطل کردی گئی ہے۔ عدالت نے پولیس جانچ، طریقہ کارکی خامیوں اورایف ایس ایل رپورٹ میں سنگین خامیاں پائی ہیں، جس کے بعد عدالت نے پھٹکاربھی لگائی۔

سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ بچی کی دوبارہ گواہی کرانے سے انکار کرتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس کے ساتھ ہی ٹرائل میں غیر ضروری تاخیر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گجرات ہائی کورٹ نے ریاست میں وقف املاک سے جڑے تنازعات کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اب وقف ٹریبونل میں دائر کیے جانے والے تمام مقدمات میں کورٹ فیس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد یوسف پٹھان نے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ 2024 میں، انہوں نے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر مغربی بنگال کی بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑا اور کانگریس کے بڑے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچے۔

آسا رام عمرقید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس کی عارضی ضمانت کو 7 جولائی تک کے لئے بڑھا دی گئی۔ موجودہ ضمانت کی مدت 30 جون کو ختم ہونے والی ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف معاملے کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا لازمی جزو ہے۔

سپریم کورٹ نے گجرات فساد سے متعلق ایک معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے 6 ملزمین کو بری کردیا ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی معاملے میں صرف موقع پرموجود ہونا یا وہاں سے گرفتار ہونا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ وہ غیرقانونی ہجوم کا حصہ تھے۔

گجرات میں سومناتھ مندرکے قریب مذہبی ڈھانچوں پربلڈوزرکارروائی کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی گجرات یونٹ نے اولیائے دین کمیٹی کی طرف سے گجرات ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔