Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel

منگل کے روز، ٹرمپ نے غزہ کی ترقی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ان پر نسلی کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب رہنماؤں نے اس کی مذمت کی ہے۔

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مؤقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کا طویل مدت سے یہی نظریہ ہے کہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور یہ ایک پختہ مؤقف ہے جس پر مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

منگل (4 فروری) کو ایک حیران کن بیان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کر کے اسے معاشی طور پر دوبارہ ترقی دے گا۔

اسرائیلی فوج نے 21 جنوری کو جنین میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا، جسے اس نے ’انسداد دہشت گردی آپریشن‘ کا نام دیا ہے۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اس کارروائی میں اب تک کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

قطر اور مصر کے ثالث لاکھوں فلسطینیوں کو شمال میں واپس جانے کی اجازت دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے ثالثوں کے  ذریعہ حماس سے یہود کے زندہ ہونے کے ثبوت  کا مطالبہ کیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حماس نے مصریوں کو یہ ثبوت دے دیے ہیں۔

ہگاری نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق، جنگ بندی اس وقت تک عمل میں نہیں آئے گی جب تک کہ حماس اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرتا ہے۔IDF کے مطابق، کچھ عرصہ قبل اس نے شمالی اور وسطی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری اور کئی ڈرون حملے کیے تھے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن غزہ سے تین خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک ان کے نام فراہم کرنے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی حملوں میں 46000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔  اسرائیل نے 17000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ اس بارے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

حوثی گروپ گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے بحیرہ احمر میں ’اسرائیل سے منسلک‘ جہاز رانی کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ باقاعدگی سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔ حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت ظاہر کرنے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔