Bharat Express DD Free Dish

Gaza-Israel

سسلی سے روانہ ہوئے ’دی میڈلین‘ نامی جہاز میں مبینہ طور پر چاول اور بچوں کے فارمولے سمیت انسانی امداد کا سامان لے کر گیا تھا۔ اس مشن کا مقصد غزہ تک مدد پہنچانا اور 2007 سے مسلط اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر جو ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز دی ہے جسے اسرائیل نے قبول کر لیا ہے۔

فلسطینی مندوب کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ فلسطینی مندوب کی تکلیف اوردرد سے بھری ہوئی تقریرکا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس نے دنیا بھر کے عوام اور کئی عالمی رہنماؤں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار اور اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے بلکہ 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی طیاروں نے دیر البلاح کے علاقے میں شہریوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابو مہدی خاندان کے چھ افراد بیک وقت مارے گئے۔

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساریہ نے حوثیوں کے المسیرہ ٹی وی پر کہا کہ ایک امریکی ڈرون MQ-9 کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ شمال مغربی یمن کے صوبہ حجہ کے اوپر فضائی حدود میں آپریشن کو انجام دے رہا تھا۔

جنوری میں اسرائیل اور حماس نے یرغمالیوں کے لیے تین مرحلوں میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ حالانکہ، مذاکرات کا دوسرا دور چھ ہفتے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کے تعطل کے درمیان 18 مارچ کو غزہ میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے دو بڑے ہسپتالوں کے باہر رات بھر خیموں پر حملہ کیا، جس میں ایک مقامی رپورٹر سمیت کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ صحافیوں سمیت دیگر نو زخمی ہو گئے ہیں۔

رات کے دوران اسرائیلی حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کا مرکز غزہ شہر رہا، جہاں ایک باپ اور اس کی بیٹی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے، اور جنوبی پٹی، جہاں ایک حملے نے نقل مکانی کرنے والے خیمے کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کے روز سے شروع کیے گئے تازہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 634 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔