Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

کمپنی کے مجموعی اخراجات ایک سال پہلے کی پہلی سہ ماہی کے 1,288 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,742 کروڑ روپے ہو گئے۔ مارچ سہ ماہی میں یہ اخراجات 1,492 کروڑ روپے تھے۔ اخراجات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ قدرتی گیس اور تجارتی اشیا کی خریداری پر بڑھنے والی لاگت رہی۔قدرتی گیس اور ٹریڈڈ آئٹمز کی لاگت پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 1,302 کروڑ روپے تک پہنچ گئی،

کانپور میں اڈانی فاؤنڈیشن نے پیدائشی طور پر ٹیڑھے پاؤں (کلب فٹ) کے شکار بچوں کے علاج اور بحالی کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے متاثرہ بچوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ معمول کی زندگی گزار سکیں اور ان کے روشن مستقبل کی راہ ہموار ہو سکے۔

گوتم اڈانی نے اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے شریک بانی پون چندانا، بھارت ڈاکا، پوری ٹیم، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) اور انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن-اسپیس) کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان سب کی مشترکہ محنت نے اس تاریخی مشن کو ممکن بنایا ہے۔انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ "تاریخ رقم ہو چکی ہے۔ وکرم-1 نے اپنی پہلی آربیٹل فلائٹ میں تمام مشن اہداف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔

4 جولائی کو امریکی محکمۂ انصاف نے بھی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں ان خبروں کو غلط قرار دیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ اڈانی گروپ کی مجوزہ امریکی سرمایہ کاری سے منسلک ہے۔

اس مہم کے دوران بجلی چوری کے 5 ہزار 897 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کارروائی کے دوران 79.25 ٹن غیر قانونی تاریں اور دیگر آلات ضبط کیے گئے۔ تحقیقات میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ 20 ہزار یونٹ بجلی کی چوری سامنے آئی، جس کی مالیت تقریباً 43 کروڑ 39 لاکھ روپے بتائی گئی۔

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 50 لاکھ اراکین کا ہندسہ عبور کرنا ’’اڈانی ریوارڈز‘‘ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل قریب میں نئے فیچرز شامل کیے جائیں گے، ممبران کے فوائد میں اضافہ کیا جائے گا اور اے اے ایچ ایل کے زیر انتظام تمام ہوائی اڈوں پر یوزر کو مزید بہتر تجربہ فراہم کرنے کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

طالب علم شیو منڈلک نے بھی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ RSI-India ملک بھر کے ہونہار ہائی اسکول طلبہ کو مکمل طور پر فنڈڈ اور عالمی معیار کی تحقیقی تربیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع کے لیے اڈانی گروپ اور CEE-USA کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام باصلاحیت طلبہ کے لیے معاشی رکاوٹوں کے بغیر اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دروازے کھولتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے تجارت، عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کینیا میں بھارتی نژاد برادری ایک صدی سے زائد عرصے سے تجارت، صنعت اور خدمات کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے،

اڈانی گروپ کے مطابق اس رجسٹریشن سے لندن میٹل ایکسچینج کے ڈلیوری بیس میں بھی اضافہ ہوگا اور عالمی کاپر مارکیٹ میں معیار، رسد اور جغرافیائی تنوع کو مزید فروغ ملے گا۔1.2 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے قائم کَچھ کاپر کا جدید پلانٹ سالانہ پانچ لاکھ ٹن پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے دنیا کے سب سے بڑے سنگل لوکیشن کسٹم کاپر اسمیلٹنگ کمپلیکسز میں شمار کیا جاتا ہے۔

جیت اڈانی نے کہا کہ یہ تمام سرمایہ کاریاں صرف صنعتی منصوبے نہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے عوام اور ریاست کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے "آتم نربھر بھارت" کے وژن کے تحت دفاعی اور فضائی شعبے میں مقامی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔