Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

گوتم اڈانی نے سالانہ جنرل میٹنگ (AGM 2026) سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال کے دوران گروپ کی پیش رفت، اہم سنگ میلوں اور نمایاں کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔

افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیت اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ملک کے ایوی ایشن سیکٹر میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب حکومت 11 نئے ہوائی اڈوں کی نجی شعبے کے لیے بولی کا عمل شروع کرے گی تو اڈانی گروپ اس میں بھرپور حصہ لے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہ طے نہیں کر رہے کہ 11 میں سے کتنے ہوائی اڈے حاصل کریں گے، ‘‘

ایئرپورٹ پر تعمیر کی گئی 1,900 میٹر طویل نئی رن وے پر طیارے کی محفوظ لینڈنگ کے بعد تجارتی پروازوں کے آغاز کو باضابطہ منظوری مل گئی۔ حکام کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ایئرپورٹ کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ گجرات کے صنعتی اور تجارتی شعبے کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گی

یہ منصوبہ گجرات کے ضلع کچھ کے سانگھی پورم میں واقع امبوجا سیمنٹس کے سانگھی پلانٹ میں قائم کیا جائے گا۔ اس شراکت داری کے تحت لیلاک کی جدید کاربن کیپچر اور ہائبرڈ الیکٹرک ہیٹنگ ٹیکنالوجی کا عملی جائزہ لیا جائے گا۔

اڈانی گروپ کی جانب سے بھی ریاست میں اپنی موجودگی بڑھانے کے اشارے ملے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ مغربی بنگال میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن  نے پدری واقع اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر میں پہلے بیچ کا آغاز کیا ہے، تین ماہ کی تربیت سے دیہی نوجوانوں کو روزگار سے جڑی مہارتیں حاصل ہوں گی۔

اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگز کے ترجمان نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر اس اعتراف سے کمپنی کے اس وژن کی توثیق ہوتی ہے جس کے تحت وہ عالمی معیار کے ہوائی اڈے تیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ہوائی اڈے صرف سفری مراکز نہیں بلکہ مختلف خطوں اور لوگوں کو جوڑنے والے اہم رابطے بھی ہیں۔

2.9 ارب ڈالر کے معاہدے سے نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع و جدیدکاری ہوگی۔ اڈانی گروپ کا مجوزہ منصوبہ 2024 میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ 2045 تک کے 20 سالہ ماسٹر پلان کا حصہ ہے، جس کے تحت رن وے، مسافر ٹرمینلز، طیاروں کی پارکنگ، رسائی سڑکوں اور دیگر معاون سہولیات کو جدید بنایا جائے گا۔

اڈانی انرجی سلوشنز کے سی ای او کندرپ پٹیل نے کہا کہ انٹیلی اسمارٹ کا حصول کمپنی کی صلاحیتوں اور آپریشنل دائرہ کار کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے ذریعے بھارت کے بجلی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اڈانی پورٹس کے مکمل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اشوانی گپتا نے کہا کہ یہ معاہدہ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑے توانائی منصوبوں کی معاونت کی کمپنی کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اڈانی پورٹس اس وقت 12 ممالک میں میری ٹائم آپریشنز چلا رہی ہے اور اس کے پاس بندرگاہوں، ایل این جی ٹرمینلز، قومی آئل کمپنیوں، ریفائنریوں اور آف شور تنصیبات کے لیے وسیع تجربہ موجود ہے۔