Adani’s net worth swelled to $89.2 billion: ایشیا کے امیر ترین شخص بن گئے گوتم اڈانی، دولت 89 ارب ڈالر سے تجاوز
فوربز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران گوتم اڈانی کی دولت میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا ،جب امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے اڈانی گروپ کے خلاف عائد کیے گئے مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔
Adani Enterprises has restored its PEKB Coal Mine in Surguja: کوئلے کی کان سے سرسبز جنگل تک، اڈانی گروپ نے سرگوجا کی کان میں 16 لاکھ سے زائد درخت لگا کر مثال قائم کر دی
شجرکاری پروگرام کے تحت کان کنی کے دوران کاٹے جانے والے ہر ایک درخت کے بدلے 40 نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں سال، مہوا، تیندو، املتاس اور سدھا جیسے مقامی انواع کے درختوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح تقریباً 88 فیصد رہی ہے،
Gautam Adani led the tributes for Indian chess star R Praggnanandhaa: ناروے شطرنج چیمپئن شپ جیت کر آر پرگنانندا نے رقم کی دی تاریخ ، گوتم اڈانی کی مبارکباد
پرگنانندا کی یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چھٹے راؤنڈ تک وہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلی پوزیشن پر موجود تھے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس کے بعد انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے مسلسل چار کلاسیکل مقابلے جیت لیے اور سب کو حیران کر دیا۔
AdaniPortfolio Reports Highest Ever Capexby Any Indian Corporate: اڈانی پورٹ فولیو کا بڑا ریکارڈ، کسی بھی بھارتی کارپوریٹ کی تاریخ کا سب سے زیادہ کیپیکس، ترقی کے نئے دور کا آغاز
رپورٹ کے مطابق FY26 میں کیے گئے سرمایہ جاتی اخراجات کا حجم اتنا بڑا ہے جتنا گروپ نے اپنے ابتدائی 25 برسوں کے دوران مجموعی اثاثے تعمیر کرنے میں خرچ کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف بھارت میں موجود بنیادی ڈھانچے کے وسیع مواقع کی عکاس ہے بلکہ اڈانی گروپ کے طویل مدتی ترقیاتی وژن پر اس کے اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
Adani says US legal issues behind it: امریکی قانونی معاملات اب ماضی کا حصہ، اب اے آئی سے جڑی انفراسٹرکچر مانگ پر بڑا داؤ لگانے پر فوکس: گوتم اڈانی
گوتم اڈانی نے کہا کہ اب گروپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کو اتنی تیزی سے مکمل کرنا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی اور انفراسٹرکچر ضروریات کو پورا کر سکے۔
Adani Skills & Education Partners: اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن نے گجرات حکومت کے ساتھ شراکت داری میں کَچھ کے 11 آئی ٹی آئی اداروں کی جدیدکاری کا شروع کیا منصوبہ
اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن نے گجرات حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں تاکہ ضلع کَچھ کے 11 آئی ٹی آئی اداروں کو صنعت سے منسلک تربیت، جدید بنیادی ڈھانچے اور روزگار پر مبنی ہنرمندی کے پروگراموں کے ذریعے جدید بنایا جا سکے۔
Vizhinjam International Seaport Crosses 2 Million: اڈانی وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے ریکارڈ اٹھارہ ماہ میں دو ملین ٹی ای یوز کا ہدف کامیابی سے عبور کر لیا
اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون کی جانب سے تیار اور چلائے جانے والے وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے آپریشنز شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر دو ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹس (TEUs) ہینڈل کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور یہ کارنامہ انجام دینے والا بھارت کا تیز ترین بندرگاہ بن گیا ہے۔
Adani Launches First Reefer Container Train from ICD Virochanagar to Mundra Port: اڈانی لاجسٹکس نے آئی سی ڈی ویروچن نگر سے منڈرا پورٹ تک پہلی ریفر کنٹینر ٹرین چلائی
کمپنی کے مطابق اس خصوصی ریفر ٹرین کے ذریعے منجمد غذائی اشیا کو مخصوص درجہ حرارت میں بروقت منزل تک پہنچایا جائے گا، جس سے مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ اندرونی علاقوں سے بندرگاہوں تک بہتر رابطہ بھی قائم ہوگا۔یہ ٹرین بھارت سے مختلف بین الاقوامی منڈیوں جیسے ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور انڈونیشیا تک سامان پہنچائے گی۔
Adani Ports To Acquire Jaypee Fertilisers For Rs 1,500 Crore: اڈانی پورٹس 1500 کروڑ روپے میں جے پی فرٹیلائزرز کو خریدے گی، لاجسٹکس نیٹ ورک کو ملے گی نئی طاقت
اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،
Adani’s US Legal Resolution Could Boost India’s Nuclear Energy Plans: امریکہ میں قانونی معاملہ حل ہونے سے اڈانی گروپ کو بھارت کے نیوکلیئر پروگرام میں مل سکتی ہے بڑی تقویت: ہولٹیک سی ای او
ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔





