Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

فوربز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران گوتم اڈانی کی دولت میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا ،جب امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے اڈانی گروپ کے خلاف عائد کیے گئے مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

شجرکاری پروگرام کے تحت کان کنی کے دوران کاٹے جانے والے ہر ایک درخت کے بدلے 40 نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں سال، مہوا، تیندو، املتاس اور سدھا جیسے مقامی انواع کے درختوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح تقریباً 88 فیصد رہی ہے،

پرگنانندا کی یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چھٹے راؤنڈ تک وہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلی پوزیشن پر موجود تھے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  اس کے بعد انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے مسلسل چار کلاسیکل مقابلے جیت لیے اور سب کو حیران کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق FY26 میں کیے گئے سرمایہ جاتی اخراجات کا حجم اتنا بڑا ہے جتنا گروپ نے اپنے ابتدائی 25 برسوں کے دوران مجموعی اثاثے تعمیر کرنے میں خرچ کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف بھارت میں موجود بنیادی ڈھانچے کے وسیع مواقع کی عکاس ہے بلکہ اڈانی گروپ کے طویل مدتی ترقیاتی وژن پر اس کے اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ اب گروپ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کو اتنی تیزی سے مکمل کرنا ہے کہ وہ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی اور انفراسٹرکچر ضروریات کو پورا کر سکے۔

اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن نے گجرات حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں تاکہ ضلع کَچھ کے 11 آئی ٹی آئی اداروں کو صنعت سے منسلک تربیت، جدید بنیادی ڈھانچے اور روزگار پر مبنی ہنرمندی کے پروگراموں کے ذریعے جدید بنایا جا سکے۔

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون کی جانب سے تیار اور چلائے جانے والے وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے آپریشنز شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر دو ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹس (TEUs) ہینڈل کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور یہ کارنامہ انجام دینے والا بھارت کا تیز ترین بندرگاہ بن گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس خصوصی ریفر ٹرین کے ذریعے منجمد غذائی اشیا کو مخصوص درجہ حرارت میں بروقت منزل تک پہنچایا جائے گا، جس سے مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ اندرونی علاقوں سے بندرگاہوں تک بہتر رابطہ بھی قائم ہوگا۔یہ ٹرین بھارت سے مختلف بین الاقوامی منڈیوں جیسے ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور انڈونیشیا تک سامان پہنچائے گی۔

اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔