Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔

س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے

بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔

دوسری جانب گھریلو شیئر بازار میں بھی مثبت ماحول دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس اور نفٹی میں صبح کے کاروبار کے دوران تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بازار کو سہارا دیا۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قانونی کارروائی ختم ہونے سے اڈانی گروپ کے شیئرز پر موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر آہوجا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے ایران سے متعلق پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے ساتھ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کیا ہے۔

معروف صنعت کار گوتم اڈانی نے بہار کی ترقی کے لیے تقریباً 50 سے 60 ہزار کروڑ روپے کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ ریاست میں سڑک، بجلی، تعلیم، صحت، ملٹی ماڈل لاجسٹک ہب، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔

اڈانی گروپ کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں شامل تمام فریق بھارتی شہری اور بھارتی کمپنیاں ہیں، جبکہ مبینہ لین دین اور سرگرمیاں بھی مکمل طور پر بھارت میں انجام پائی تھیں۔ وکلاء نے یہ دلیل بھی دی کہ جن بانڈز یا مالیاتی دستاویزات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ امریکی اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈ نہیں ہوتے، اس لیے امریکی قوانین کا اطلاق اس معاملے پر نہیں ہوتا۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ بہار کو مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سڑکوں اور صنعتی ترقی کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاست میں جدید بنیادی سہولیات کو فروغ دیا جائے تو بہار ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اڈانی گروپ اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کی مشترکہ کوشش سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جدید اور کم خرچ آنکھوں کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مقصد شمالی اور وسطی بھارت کے دور دراز علاقوں تک عالمی معیار کی آئی کیئر خدمات پہنچانا ہے۔