Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

یہ تقریب اڈانی فاؤنڈیشن اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو دیہی صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے، جو نہ صرف آنکھوں کے علاج کو عام لوگوں تک پہنچائے گا بلکہ تربیت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

سال 2005 میں بہار کے ایک دیہی علاقے میں 30 بستروں والے اسپتال کے طور پر قائم ہونے والا اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل آج ملک کے نمایاں آنکھوں کے اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں اب تک 14 لاکھ سے زیادہ افراد کی بینائی بحال کی جا چکی ہے، جبکہ لاکھوں لوگوں کی آنکھوں کا چیک اپ کیا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن بھی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔

گوتم اڈانی نے کہا، “گوگل کے اشتراک سے ہم وشاکھاپٹنم میں ملک کا سب سے بڑا گیگاواٹ اسکیل ڈیٹا سینٹر کیمپس تیار کر رہے ہیں۔ یہ بھارتی سرزمین پر خودمختار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ AI اکانومی کی پہلی اور سب سے اہم پرت “پاور لیئر” ہے، کیونکہ سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے بغیر پروسیسنگ، نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی اور انٹیلی جنس اب قومی ترجیحات بن چکی ہیں

اپیلیٹ ٹریبونل نے قرض دہندگان کی کمیٹی (Committee of Creditors - CoC) کے فیصلوں کی بھی توثیق کی اور کہا کہ کمیٹی کی فیصلہ سازی کے عمل میں کسی قسم کی قانونی خامی یا بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ ٹریبونل نے خاص طور پر 14 نومبر 2025 کی CoC میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا

اڈانی گروپ کے سربراہ نے اس موقع پر اپنے چار لاکھ سے زائد ملازمین کے لیے ایک نئی پہل کا بھی اعلان کیا۔ اس اقدام کو “اپنی بات، اپنوں کے ساتھ” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ادارے کے ہر فرد کے ساتھ براہِ راست اور مخلصانہ رابطہ قائم کرنا ہے۔

اڈانی نے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “آپ صرف کارکن نہیں بلکہ قوم کے معمار ہیں۔ جب ہم کسی پروجیکٹ کو مکمل کرتے ہیں تو ہم صرف ایک کام ختم نہیں کرتے بلکہ ملک کے مستقبل کو تشکیل دیتے ہیں۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے فخر کے ساتھ کہا کہ اسکول کے طلبہ آج بحریہ، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون جیسے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کیا بنایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کن لوگوں کو بنایا۔

کارکردگی کے حوالے سے کمپنی نے 34 فیصد سالانہ اضافہ کے ساتھ توانائی کی فروخت میں بھی نمایاں بہتری دکھائی۔ جدید ڈیٹا اینالیٹکس، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے استعمال سے آپریشنز کو مزید مؤثر بنایا گیا،