Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

اے پی ایس ای زیڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کرن اڈانی نے اس حصول کو کمپنی کے ایک ارب ٹن کارگو ہینڈلنگ کے ہدف کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے عالمی سطح پر مائع اشیا کے ذخیرہ کرنے اور توانائی کے اہم مراکز میں اے پی ایس ای زیڈ کی موجودگی مضبوط ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی یورپ میں پائیدار توانائی کی منتقلی کے عمل کو بھی تعاون ملے گا۔

کمپنی کے منصوبے کے مطابق نئے گرائنڈنگ پلانٹس کے ذریعے مغربی خطے میں 15.5 ایم ٹی پی اے، مشرقی خطے میں 11.6 ایم ٹی پی اے اور شمالی خطے میں 2.9 ایم ٹی پی اے پیداواری صلاحیت کا اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ کلنکر کی پیداوار بھی بڑھائی جائے گی۔مشرقی خطے میں آسام کے عمرنگسو میں 4 ایم ٹی پی اے، مغربی خطے میں مہاراشٹر کے مراٹھا میں 4 ایم ٹی پی اے اور گجرات کے مندرا میں 2.3 ایم ٹی پی اے کلنکر پیداواری صلاحیت تیار کی جائے گی۔

ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ہوٹلوں کے ان معروف برانڈز کی موجودگی سے گوہاٹی کو شمال مشرقی ہندوستان کے ابھرتے ہوئے ہوابازی اور تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوطی ملے گی۔ ان کے مطابق یہ سرمایہ کاری ریاست میں فضائی آمد و رفت میں اضافے، سیاحت کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی اور نجی شعبے کے بڑھتے اعتماد کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر کے دوران، کمپنی کی آمدنی سالانہ بنیاد پر 21 فیصد اضافے کے ساتھ 22,161 کروڑ روپے ہو گئی۔ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 18,294 کروڑ روپے تھی۔اس دوران کمپنی کا منافع بھی سالانہ بنیاد پر 14 فیصد بڑھ کر 7,332 کروڑ روپے ہو گیا،

مالی سال 2026-2027 کی دوسری سہ ماہی کے دوران بھارت میں بجلی کی مانگ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11.5 فیصد بڑھ کر 502 ارب یونٹ تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی اہم وجوہات میں تیز رفتار اقتصادی ترقی اور مانسون کی کمزور صورت حال شامل رہی۔بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ملک میں مجموعی بجلی کی پیداوار بھی سالانہ بنیاد پر 11 فیصد بڑھ کر 536 ارب یونٹ ہو گئی۔

توانائی کی فروخت میں 32 فیصد اضافہ، بجلی کی فراہمی سے آمدنی 8,299 کروڑ روپے رہی؛ بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 6.63 گیگاواٹ آور ہوگئی

نو راتری کے موقع پر گوتم اڈانی نے جنوبی گجرات میں شریمد راج چندر مشن دھرم پور کا دورہ کیا اور پوجیہ گرو دیو شری راکیش جی سے آشیرواد حاصل کیا۔

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھارت کی ترقی کے حوالے سے بلومبرگ کے شریک بانی مائیکل بلومبرگ کے نظریے کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے ساتھ قابل اعتماد اعداد و شمار، شفاف حکمرانی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ترقیاتی پالیسی ضروری ہے۔

اڈانی گروپ کی ترجیح ممبئی کے مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جیت اڈانی اور ایئرلائن نمائندوں کے درمیان ہونے والی اس میٹنگ کا بنیادی مقصد ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑی سطح پر جدید کاری کے ساتھ پروازوں کے معمول کے آپریشن کو برقرار رکھنا تھا۔میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔

صنعتی سرگرمیوں کے علاوہ کچھ کاپر صحت، تعلیم، روزگار کے مواقع اور سماجی ترقی سے متعلق کمیونٹی منصوبوں کی بھی حمایت کرتی ہے۔کمپنی کے مطابق اڈانی گروپ نے اس منصوبے کے لیے 1.2 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے۔ گروپ کا ماننا ہے کہ ملک میں تانبے کی پیداوار بڑھانا ہندوستان کے گرین انفراسٹرکچر کی توسیع اور 2070 تک نیٹ زیرو اخراج کا ہدف حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔