Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

اڈانی گروپ کے چیئرمین نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا ’’اس مشکل دور میں سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ہمارا اعتماد اٹل رہا۔میں ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے ہم پر، نظام پر اور بھارت کی انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت پر کبھی اپنا اعتماد نہیں کھویا۔‘‘

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ وہ عاجزی اور عدالتی عمل کے تئیں گہرے احترام کے ساتھ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل دور کے دوران سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا۔گوتم اڈانی نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا،

گوتم اڈانی اور دیگر افراد پر بھارت میں شمسی توانائی کے معاہدوں سے متعلق مبینہ رشوت خوری کی اسکیم میں ملوث ہونے اور امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، رواں سال مئی میں امریکی محکمہ انصاف (DoJ) نے عدالت سے ان الزامات کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔

اڈانی فاؤنڈیشن کا ماننا ہے کہ ہنرمندی کی ترقی نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد اور خود انحصاری کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی سمت میں اڈانی فاؤنڈیشن مسلسل کام کر رہا ہے۔

اڈانی یونیورسٹی میں بی ٹیک اور انٹیگریٹڈ پروگرام کے نئے طلبہ کے لیے ’انڈکشن پروگرام 2026‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے نامور ماہرینِ تعلیم اور صنعتی شعبے کی ممتاز شخصیات نے طلبہ کو اختراع (انوویشن)، قیادت اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔

اڈانی پورٹس کے بین الاقوامی بندرگاہی کاروبار نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس شعبے کی آمدنی 80 فیصد بڑھ کر 1,747 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ EBITDA میں 256 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 730 کروڑ روپے رہا۔کمپنی کے مطابق یہ ترقی بنیادی طور پر آسٹریلیا اور کولمبو میں بہتر کارکردگی کی بدولت ممکن ہوئی، جو اس کے بین الاقوامی پورٹ فولیو کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

اڈانی گروپ کی کمپنی امبوجا سیمنٹس لمیٹڈ نے مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی (30 جون 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی) کے نتائج جاری کرتے ہوئے مضبوط مالی اور آپریشنل کارکردگی کا اعلان کیا ہے۔

اڈانی انرجی سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کندرپ پٹیل نے کہا کہ یہ منصوبہ بھارت کی آئندہ صنعتی ترقی کے لیے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف گرین ہائیڈروجن اور گرین امونیا جیسے صاف توانائی کے منصوبوں کو فروغ ملے گا

ایئرلائن شروع کرنے کی چہ مگوئیاں اس وقت تیز ہو گئی تھیں جب ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ نے حکومت سے نجکاری سے متعلق ایک موجودہ ضابطے میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضابطے کے تحت دہلی اور ممبئی جیسے بڑے ہوائی اڈوں کا آپریشن کرنے والی کمپنیوں کو کسی شیڈولڈ ایئرلائن میں 10 فیصد سے زیادہ حصہ داری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

ماحولیاتی کارکردگی کے تحت کمپنی نے اندرونِ ملک تھرمل پاور پلانٹس میں پانی کے استعمال کو قانونی حد سے 30.8 فیصد کم رکھتے ہوئے 2.42 مکعب میٹر فی میگاواٹ آور تک محدود رکھا، جبکہ پہلی سہ ماہی میں راکھ (Ash) کے استعمال کی شرح 93 فیصد رہی۔برانڈ فنانس کی 2026 کی درجہ بندی میں اڈانی پاور کو بھارت کا سب سے قیمتی انرجی برانڈ قرار دیا گیا۔