Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani

محکمۂ انصاف نے مقدمہ ختم کرنے کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی بنیادی نوعیت مکمل طور پر غیر ملکی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ فردِ جرم کے ابتدائی دو صفحات ہی اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں، کیونکہ اس میں بھارتی شہریوں، بھارتی سرکاری اداروں، بھارت میں ہونے والے معاہدوں اور بھارت میں فراہم کی جانے والی بجلی سے متعلق الزامات شامل تھے۔ محکمۂ انصاف کے مطابق بھارت نے 2026 میں ان الزامات کے بیشتر پہلوؤں کی جانچ کر لی تھی اور اپنی رپورٹوں اور فیصلوں میں کسی قابلِ کارروائی بدعنوانی کا سراغ نہیں ملا تھا۔

کرن اڈانی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے "وکست بھارت 2047" کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نوعیت کے بڑے صنعتی منصوبے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ اڈیشہ ناگزیر ہے،

اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) بھارت کی پہلی قابلِ تجدید توانائی کمپنی بن گئی ہے جس نے آپریشنل (فعال) صلاحیت کے لحاظ سے 20 گیگاواٹ کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

یہ معاہدہ ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر روایتی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ اس کے تحت TiL تقریباً 1.397 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جو بندرگاہ کی مجموعی 2.85 ارب امریکی ڈالر مالیت کے حساب سے 49 فیصد حصص کے برابر ہے۔

جیانفورٹی نے واضح کیا کہ جج استغاثہ (Prosecution) کے فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کر سکتے اور نہ ہی محکمہ انصاف کے فیصلے کی جگہ اپنا فیصلہ نافذ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت صرف یہ اطمینان کرتی ہے کہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست نیک نیتی کے ساتھ دی گئی ہے اور اس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔

اڈانی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ فردِ جرم میں کسی سرمایہ کار کو مالی نقصان پہنچنے کا الزام شامل نہیں۔ 2021 کے بانڈز کی مکمل ادائیگی ہو چکی ہے، 2024 کے بانڈز میں کوئی ڈیفالٹ نہیں ہوا، جبکہ 2021 اور 2023 کے قرضے بھی مقررہ شرائط کے مطابق ادا کیے جا رہے ہیں۔

اس پروگرام میں لارڈ اڈائر ٹرنر اور نائیجل ٹاپنگ کی صدارت میں مختلف نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں توانائی، مالیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی عالمی تنظیموں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب کا اختتام سائنس میوزیم میں قائم 'انرجی ریولوشن: دی اڈانی گرین انرجی گیلری' کے دورے پر ہوا، جہاں مارچ 2024 میں افتتاح کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد آ چکے ہیں۔

ڈانی پورٹس کے کل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اشونی گپتا نے اس کامیابی کو کمپنی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خودمختار ریٹنگ کے مساوی درجہ حاصل کرنا کمپنی کے مضبوط کاروباری ماڈل، قابل اعتماد کیش فلو، معیاری انفراسٹرکچر اثاثوں اور مالیاتی نظم و ضبط کا واضح ثبوت ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ گوتم اڈانی کی 64ویں سالگرہ پر ’’سیوا ہی سادھنا ہے‘‘ کے نظریے کو اڈانی پریوار نے ایک عظیم خون عطیہ مہم کے ذریعے حقیقت کا روپ دیا۔

گوتَم اڈانی نے کہا:"اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو ہر بھارتی کر سکتا ہے۔ انہیں صرف ایک موقع اور ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔"ملک کی تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، 800 سے زائد اضلاع اور دنیا بھر میں موجود بھارتی برادری تک رسائی کے ساتھ وندے بھارتم کو بھارت میں اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کی تلاش کا ایک وسیع ترین پلیٹ فارم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے درخواستیں 24 جون سے شروع ہو چکی ہیں۔