نیویارک: امریکہ کے محکمۂ انصاف (DoJ) نے گوتم اڈانی کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے بارے میں غیر معمولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف عائد کیے گئے الزامات یا تو بہت پہلے واپس لے لیے جانے چاہیے تھے یا بعض معاملات میں انہیں سرے سے دائر ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں محکمۂ انصاف کے سینئر عہدیدار آر۔ ٹرینٹ میک کاٹر نے کہا کہ کئی ماہ تک مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد تمام الزامات ختم کرنے کا فیصلہ ’’کسی بھی لحاظ سے مشکل فیصلہ نہیں تھا۔‘‘
زیادہ تر معاملات کا تعلق بھارت سے تھا
محکمۂ انصاف نے مقدمہ ختم کرنے کی متعدد وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کی بنیادی نوعیت مکمل طور پر غیر ملکی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ فردِ جرم کے ابتدائی دو صفحات ہی اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں، کیونکہ اس میں بھارتی شہریوں، بھارتی سرکاری اداروں، بھارت میں ہونے والے معاہدوں اور بھارت میں فراہم کی جانے والی بجلی سے متعلق الزامات شامل تھے۔ محکمۂ انصاف کے مطابق بھارت نے 2026 میں ان الزامات کے بیشتر پہلوؤں کی جانچ کر لی تھی اور اپنی رپورٹوں اور فیصلوں میں کسی قابلِ کارروائی بدعنوانی کا سراغ نہیں ملا تھا۔ درخواست میں کہا گیا کہ زیادہ تر گواہان اور شواہد بھارت میں موجود تھے، جس کی وجہ سے مقدمے کی کارروائی میں عملی مشکلات درپیش تھیں۔ اس کے علاوہ، مقدمے میں نامزد کسی بھی ملزم نے امریکی عدالت میں پیشی نہیں دی تھی اور نہ ہی ان کی پیشی کے امکانات تھے۔ آر۔ ٹرینٹ میک کاٹر نے یہ بھی کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ کے آخری دنوں میں یہ فرد جرم غالباً صرف ’’نام بدنام کرنے‘‘ (Name and Shame) کی غرض سے سامنے لائی گئی تھی، حالانکہ اس مقدمے کے باقاعدہ ٹرائل تک پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔
قانونی بنیادوں پر بھی سخت تنقید
محکمۂ انصاف نے اپنی درخواست میں استغاثہ کی قانونی بنیادوں پر بھی سخت تنقید کی اور مقدمے کے بعض حصوں کو ’’ناقابل دفاع‘‘ قرار دیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ فارن کرپٹ پریکٹسز ایکٹ (FCPA) کے تحت عائد کیے گئے الزامات محکمۂ انصاف کی موجودہ پالیسی کے مطابق بیرونِ ملک رشوت ستانی سے متعلق مقدمات کے لیے درکار قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ درخواست کے اختتام پر محکمۂ انصاف نے کہا کہ ملزمان کئی ماہ تک ایسے فوجداری الزامات کی زد میں رہے جنہیں بہت پہلے ختم کر دینا چاہیے تھا۔ آر۔ٹرینٹ میک کاٹر نے لکھا ’’یہ وہ الزامات تھے جنہیں ایک سال پہلے ہی واپس لے لیا جانا چاہیے تھا، بلکہ بعض کو تو سرے سے دائر ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘‘ یہ بیان کسی کارپوریٹ مقدمے کے بارے میں خود امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے سامنے آنے والی سخت ترین عوامی تنقیدوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


