نئی دہلی: بھارت کی سب سے بڑی مربوط ٹرانسپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون (APSEZ) اور دنیا کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس کمپنی ایم ایس سی گروپ (MSC Group) نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دیتے ہوئے ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایم ایس سی گروپ اپنی کنٹینر ٹرمینل آپریٹنگ کمپنی ٹرمینل انویسٹمنٹ لمیٹڈ (TiL) کے ذریعے وِژنجم پورٹ کی کنسیشنئر کمپنی اڈانی وِژنجم پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ (AVPPL) میں 49 فیصد حصص حاصل کرے گی۔یہ سرمایہ کاری بھارتی بندرگاہی انفراسٹرکچر میں اب تک کی سب سے بڑی غیر ملکی نجی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے، جس سے وِژنجم بندرگاہ کو بحرِ ہند کے ایک اہم ٹرانس شپمنٹ گیٹ وے کے طور پر مزید مضبوطی ملے گی۔
یہ معاہدہ ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر روایتی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ اس کے تحت TiL تقریباً 1.397 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جو بندرگاہ کی مجموعی 2.85 ارب امریکی ڈالر مالیت کے حساب سے 49 فیصد حصص کے برابر ہے۔اے پی ایس ای زیڈ کے ہول ٹائم ڈائریکٹر اور سی ای او اشونی گپتا نے کہا کہ وِژنجم پورٹ نے مختصر مدت میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور آپریشن شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر 20 لاکھ ٹی ای یو (TEU) کنٹینر ہینڈل کرنے والا بھارت کا پہلا بندرگاہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس سی کے ساتھ طویل عرصے سے جاری شراکت داری کو مزید وسعت دینا بندرگاہ کی ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے نہایت اہم قدم ہے، جو عالمی سپلائی چین کی کارکردگی بہتر بنانے اور بھارت کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو مزید مستحکم کرے گا۔
APSEZ, India’s largest and one of the world’s fastest-growing Integrated Transport Operator, and MSC Group, the world’s largest transport and logistics conglomerate, have entered into a definitive agreement under which MSC Group, via its container terminal operating and investing… pic.twitter.com/SV8riBmdMS
— IANS (@ians_india) June 30, 2026
اس اسٹریٹجک شراکت داری سے اے پی ایس ای زیڈ کو کئی اہم فوائد حاصل ہوں گے، جن میں اضافی کارگو کی بدولت بہتر منصوبہ بندی اور تیز رفتار ترقی، بنگلہ دیشی کارگو میں نمایاں حصہ، مشرقی افریقہ کے تجارتی راستوں پر مضبوط موجودگی اور ریلے کارگو کے حجم میں اضافہ شامل ہے۔ٹرمینل انویسٹمنٹ لمیٹڈ (TiL) دنیا کی بڑی کنٹینر ٹرمینل آپریٹنگ کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور یہ ایم ایس سی گروپ کا حصہ ہے۔ ایم ایس سی کے پاس دنیا کے پانچ براعظموں میں 100 سے زائد کنٹینر ٹرمینلز ہیں، جن کی مجموعی سالانہ استعداد 7 کروڑ ٹی ای یو سے زیادہ ہے۔
دسمبر 2024 میں شروع ہونے والا وِژنجم پورٹ بھارت کا پہلا گہرے پانی کا میگا ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ ہے، جس کی ابتدائی گنجائش 16 لاکھ ٹی ای یو ہے۔ توسیعی منصوبے کے بعد دسمبر 2028 تک اس کی صلاحیت بڑھ کر 57 لاکھ ٹی ای یو تک پہنچ جائے گی، جو موجودہ استعداد سے تقریباً ساڑھے تین گنا زیادہ ہوگی۔یہ بندرگاہ یورپ، خلیج فارس اور مشرق بعید کو ملانے والے مشرق۔مغرب شپنگ روٹ سے صرف 10 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں 18 سے 20 میٹر قدرتی گہرائی، 2.9 کلومیٹر طویل بریک واٹر، 800 میٹر لمبا برتھ، 8 جدید کوئے کرینیں اور 24 مکمل خودکار یارڈ کرینیں نصب ہیں۔ بھارت کے پہلے مکمل آٹومیٹڈ بندرگاہ کے طور پر یہاں جدید کنٹینر ہینڈلنگ سسٹم، عالمی معیار کا آئی ٹی پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس دیسی ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (VTMS) استعمال کیا جا رہا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران وِژنجم پورٹ نے 13 لاکھ ٹی ای یو کارگو ہینڈل کیا۔ اپنے پہلے ہی سال میں اس نے 615 بحری جہازوں کی آمدورفت سنبھالی اور 10 لاکھ ٹی ای یو کا ہدف حاصل کرنے والا تیز ترین بھارتی بندرگاہ بن گیا۔ صرف 18 ماہ میں اس نے 20 لاکھ ٹی ای یو اور 950 جہازوں کا سنگ میل عبور کرکے ایک اور قومی ریکارڈ قائم کیا، جبکہ جون 2026 میں بندرگاہ نے اپنے ایک ہزارویں بحری جہاز کا خیرمقدم بھی کیا۔ اب تک یہاں 70 سے زائد الٹرا لارج کنٹینر ویسلز (ULCVs)، 300 میٹر سے زائد لمبائی والے 283 جہاز اور 16 میٹر سے زیادہ ڈرافٹ رکھنے والے 98 بحری جہاز کامیابی سے آپریٹ کیے جا چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


