Bharat Express DD Free Dish

Business News

جیو پلیٹ فارمز کی شیئر بازار میں لسٹنگ کے موقع پر اننت امبانی کی تقریر سن کر مکیش امبانی جذباتی ہوگئے۔ جیو کے شیئر تقریباً 21 فیصد پریمیم کے ساتھ بازار میں درج ہوئے۔

مکیش امبانی کی جیو پلیٹ فارمز کے شیئر ہولڈرز کی تعداد 104 سے بڑھ کر 79.6 لاکھ ہوگئی۔ آئی پی او کو ملنے والی درخواستوں، شیئر کی لسٹنگ قیمت اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو پر ایک نظر۔

ریلائنس جیو کی ممکنہ لسٹنگ سے ملک کی سب سے زیادہ قیمتی کمپنیوں کی درجہ بندی میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ لسٹنگ کے بعد جیو کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن 12.61 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

اب دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو دیے گئے اندازوں کے مطابق، 25,000 روپے کی ماہانہ ایس آئی پی سے 20 سال میں تقریباً 2.49 کروڑ روپے کا سرمایہ جمع ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب، 5 لاکھ روپے کی یکمشت سرمایہ کاری بڑھ کر تقریباً 48.23 لاکھ روپے ہوسکتی ہے۔ اس طرح دونوں کے آخری سرمائے میں تقریباً 2 کروڑ روپے کا فرق نظر آتا ہے

اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔ کمپنی کا خالص منافع دوگنا سے زیادہ ہو کر 1,364 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ EBITDA میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ درج کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے ایلن مسک نے ہندوستان میں اسٹارلنک کے داخلے کے معاملے پر ارب پتی صنعت کار مکیش امبانی کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں انہیں ’’محترم وزیر اعظم امبانی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور الزام لگایا کہ وہ اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اسٹارلنک کو مسابقت کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔

وزیر خزانہ نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں نجی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کہا، ’’بات صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی نہیں ہے، بلکہ سیمی کنڈکٹر، چِپس، ان کے ڈیزائن اور پیکیجنگ کی بھی ہے۔ بھارت ایسے شعبوں میں آگے بڑھ رہا ہے جو اے آئی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘‘

پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 121ویں سالانہ اجلاس میں نئی قیادت کا اعلان، کے ای آئی انڈسٹریز کے سی ایم ڈی انل گپتا نے صدر کا عہدہ سنبھالا، اس دوران سنجے سنگھانیہ کو سینئر نائب صدر اور انشومان سنگھانیہ کو نائب صدر مقرر کیا گیا۔

پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان کا ہدف مالی سال 2026-27 میں ایک ٹریلین ڈالر کی برآمدات حاصل کرنا ہے، جس کے لیے 15 فیصد ترقی کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، وقت پر سامان کی فراہمی یقینی بنانے، برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تلاش کرنے اور عالمی ویلیو چین میں ہندوستانی صنعتوں کی شرکت بڑھانے پر زور دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپریل 2023 میں منظور کیے گئے ’نیشنل کوانٹم مشن‘ کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن کے لیے 8 سال کے دوران 6003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ مشن چار اہم شعبوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد پر مرکوز ہے۔انہوں نے بایو ٹیکنالوجی اور ’بایو ای تھری‘ (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایو ٹیکنالوجی) پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔