Bharat Express DD Free Dish

Business News

ایئرپورٹ پر تعمیر کی گئی 1,900 میٹر طویل نئی رن وے پر طیارے کی محفوظ لینڈنگ کے بعد تجارتی پروازوں کے آغاز کو باضابطہ منظوری مل گئی۔ حکام کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ایئرپورٹ کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ گجرات کے صنعتی اور تجارتی شعبے کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گی

امریکی سپریم کورٹ نے نظرثانی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ ڈی ایکس سی ٹیکنالوجی کے حق میں ہرجانے کا فیصلہ برقرار، ٹی سی ایس کو اضافی 7 کروڑ ڈالر کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔

پیاز کو منڈی تک پہنچانے، مزدوروں کی اجرت اور دیگر اخراجات ملا کر انہیں 1383 روپے خرچ کرنے پڑے۔ جب فروخت سے حاصل ہونے والے 301 روپے اس خرچ میں سے کم کیے گئے تو کسان کو اپنی جیب سے مزید 1082 روپے ادا کرنے پڑے۔

ماہرین کے مطابق مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں جیسے جیسے نتائج واضح ہوں گے، بازار میں اتار چڑھاؤ مزید تیز ہو سکتا ہے۔ ابتدائی رجحانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ سرمایہ کار سیاسی استحکام اور پالیسی تسلسل کی توقع کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر بازار کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔

وزارت آیوش کی پالیسیوں اور روایتی علاج کے نظام جیسے یوگا اور آیوروید کے فروغ نے بھی بھارت کو ایک منفرد مقام دلایا ہے۔ جدید طبی سہولیات کے ساتھ ان روایتی طریقۂ علاج کے امتزاج نے غیر ملکی مریضوں کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے۔

آر بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، اُس وقت ان کی کل مالیت 3.56 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو اب کم ہو کر 5,451 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔

کمپنی نے ایک اہم سنگ میل حاصل کرتے ہوئے ایک ہی سال میں 50 کروڑ میٹرک ٹن سے زائد بندرگاہی کارگو سنبھالنے والی بھارت کی پہلی مربوط ٹرانسپورٹ کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کمپنی کی کارکردگی مضبوط رہی، جہاں آسٹریلیا اور کولمبو میں آپریشنز کی توسیع کے باعث بیرونِ ملک بندرگاہی آمدنی میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

کمپنی کا 10 فیصد ورک فورس کم کرنے کا فیصلہ، AI میں بھاری سرمایہ کاری اصل وجہ قرار۔ باضابطہ طور پر 8 ہزار ملازمین کی برطرفی کی بات کی گئی ہے، لیکن کمپنی نے مزید 6 ہزار خالی آسامیوں کو بھی ختم کر دیا ہے، جن پر مستقبل میں بھرتی ہونی تھی۔

مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 15 فیصد بڑھ کر 7,588 کروڑ روپے ہو گئی۔ EBITDA میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2,372 کروڑ روپے رہا، جبکہ بعد از ٹیکس منافع (PAT) 723 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 714 کروڑ روپے تھا۔

مالی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کاغذی لین دین کروڑوں روپے کا تھا، لیکن بینک کھاتوں میں حقیقی رقم کا بہاؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔ کئی کمپنیوں کا ایک ہی آئی پی ایڈریس اور مشترکہ ملازمین ہونا اس بات کا ثبوت بنا کہ پورا نیٹ ورک مرکزی طور پر چلایا جا رہا تھا۔