Bharat Express DD Free Dish

Adani US Case: امریکی عدالت نے محکمہ انصاف سے تفصیلی جواب طلب کیا، ماہرین: اڈانی کے خلاف مقدمہ ختم ہونے کے امکانات برقرار

اڈانی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ فردِ جرم میں کسی سرمایہ کار کو مالی نقصان پہنچنے کا الزام شامل نہیں۔ 2021 کے بانڈز کی مکمل ادائیگی ہو چکی ہے، 2024 کے بانڈز میں کوئی ڈیفالٹ نہیں ہوا، جبکہ 2021 اور 2023 کے قرضے بھی مقررہ شرائط کے مطابق ادا کیے جا رہے ہیں۔

نئی دہلی :امریکی عدالت کی جانب سے بھارتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف جاری فوجداری مقدمے میں محکمہ انصاف (DoJ) سے مزید وضاحت طلب کیے جانے کے باوجود قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کے دوبارہ پوری شدت سے آگے بڑھنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ امریکہ کے سینئر وکیل کرس مین کے مطابق جج کا حالیہ حکم ایک معمول کی قانونی کارروائی ہے اور اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ مقدمہ دوبارہ فعال ہونے جا رہا ہے۔

جج نے محکمہ انصاف سے کیا وضاحت مانگی؟

بروکلین کی امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفس نے محکمہ انصاف سے کہا ہے کہ وہ 18 مئی کو دائر کی گئی اس درخواست پر تفصیلی وجوہات پیش کرے، جس میں گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف فوجداری الزامات واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ابتدائی درخواست میں مناسب قانونی بنیادیں بیان نہیں کی گئیں۔ محکمہ انصاف کو 13 جولائی تک اپنا تفصیلی جواب جمع کرانے کی مہلت دی گئی ہے۔

معمول کی قانونی کارروائی ہے

سینئر امریکی وکیل کرس مین نے کہا کہ امریکی قانون کے Rule 48(a) کے تحت کسی بھی فوجداری مقدمے کو واپس لینے کے لیے عدالت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں جج کی جانب سے اضافی معلومات طلب کرنا ایک عام قانونی عمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید امریکی عدالتی تاریخ میں کوئی نمایاں مثال موجود نہیں، جس میں عدالت نے محکمہ انصاف کی خواہش کے خلاف کسی فوجداری مقدمے کو جاری رکھنے پر مجبور کیا ہو۔

چند ہفتوں میں مقدمہ ختم ہونے کا امکان

کرس مین کے مطابق محکمہ انصاف مقررہ مدت سے پہلے بھی اپنا تفصیلی جواب داخل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امکان ہے عدالت بغیر کسی سماعت کے آئندہ چند ہفتوں میں مقدمہ خارج کرنے کی اجازت دے دے۔ ان کے مطابق عدالت صرف یہ اطمینان کرنا چاہتی ہے کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ نیک نیتی اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔

ایرک ایڈمز کیس کی مثال

قانونی ماہرین نے نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز کے بدعنوانی کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی محکمہ انصاف نے الزامات واپس لینے کی درخواست دی تھی۔ اس وقت عدالت نے تفصیلی وضاحت اور سماعت کے بعد مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت حکومتی فیصلے کا جائزہ تو لے سکتی ہے، لیکن اسے تبدیل کرنے کے اختیارات انتہائی محدود ہوتے ہیں۔

اڈانی کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے اہم دلائل

24 جون 2026 کو عدالت میں جمع کرائے گئے خط میں گوتم اڈانی کی قانونی ٹیم نے کئی اہم نکات اٹھائے:امریکی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا: تمام مالی لین دین امریکہ سے باہر ہوئے، بانڈ دستاویزات بھی بیرونِ امریکہ تیار اور منظور کی گئیں اور ان پر انگریزی قانون لاگو تھا، اس لیے یہ معاملہ امریکی سیکیورٹیز قوانین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔رشوت ستانی کے الزامات پر اعتراض: سابق بھارتی ریگولیٹری افسر کی ماہرانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مبینہ ادائیگیاں دراصل ریاستی بجلی کمپنیوں کو شمسی توانائی کے معاہدوں کے لیے دی جانے والی جائز تجارتی رعایتیں تھیں، نہ کہ رشوت۔500 صفحات سے زائد قانونی مواد جمع کرایا: فروری سے اپریل 2026 کے دوران اڈانی گروپ نے محکمہ انصاف کو تقریباً 500 صفحات پر مشتمل قانونی دستاویزات، ماہرین کی رپورٹس اور قانونی دلائل فراہم کیے، جن میں ہارورڈ لا اسکول کے ایک پروفیسر اور سابق SEC کمشنر کی آراء بھی شامل تھیں۔

  • سرمایہ کاروں کو مالی نقصان نہیں پہنچا
  • اڈانی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ فردِ جرم میں کسی سرمایہ کار کو مالی نقصان پہنچنے کا الزام شامل نہیں۔ 2021 کے بانڈز کی مکمل ادائیگی ہو چکی ہے، 2024 کے بانڈز میں کوئی ڈیفالٹ نہیں ہوا، جبکہ 2021 اور 2023 کے قرضے بھی مقررہ شرائط کے مطابق ادا کیے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read