Bharat Express DD Free Dish

Business News

وزارت آیوش کی پالیسیوں اور روایتی علاج کے نظام جیسے یوگا اور آیوروید کے فروغ نے بھی بھارت کو ایک منفرد مقام دلایا ہے۔ جدید طبی سہولیات کے ساتھ ان روایتی طریقۂ علاج کے امتزاج نے غیر ملکی مریضوں کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے۔

آر بی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ “جب 19 مئی 2023 کو 2000 روپے کے نوٹوں کو واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا، اُس وقت ان کی کل مالیت 3.56 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو اب کم ہو کر 5,451 کروڑ روپے رہ گئی ہے۔

کمپنی نے ایک اہم سنگ میل حاصل کرتے ہوئے ایک ہی سال میں 50 کروڑ میٹرک ٹن سے زائد بندرگاہی کارگو سنبھالنے والی بھارت کی پہلی مربوط ٹرانسپورٹ کمپنی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کمپنی کی کارکردگی مضبوط رہی، جہاں آسٹریلیا اور کولمبو میں آپریشنز کی توسیع کے باعث بیرونِ ملک بندرگاہی آمدنی میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔

کمپنی کا 10 فیصد ورک فورس کم کرنے کا فیصلہ، AI میں بھاری سرمایہ کاری اصل وجہ قرار۔ باضابطہ طور پر 8 ہزار ملازمین کی برطرفی کی بات کی گئی ہے، لیکن کمپنی نے مزید 6 ہزار خالی آسامیوں کو بھی ختم کر دیا ہے، جن پر مستقبل میں بھرتی ہونی تھی۔

مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں کمپنی کی آمدنی 15 فیصد بڑھ کر 7,588 کروڑ روپے ہو گئی۔ EBITDA میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 2,372 کروڑ روپے رہا، جبکہ بعد از ٹیکس منافع (PAT) 723 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 714 کروڑ روپے تھا۔

مالی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کاغذی لین دین کروڑوں روپے کا تھا، لیکن بینک کھاتوں میں حقیقی رقم کا بہاؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔ کئی کمپنیوں کا ایک ہی آئی پی ایڈریس اور مشترکہ ملازمین ہونا اس بات کا ثبوت بنا کہ پورا نیٹ ورک مرکزی طور پر چلایا جا رہا تھا۔

اس منصوبے پر آئندہ 10 سے 15 برسوں میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ گزشتہ سال ادانی گروپ، جو دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر بھی کام کر رہا ہے، موٹی لال نگر منصوبے کے لیے کامیاب بولی دہندہ بنا تھا۔ذرائع کے مطابق اس علاقے میں فی مربع فٹ قیمت تقریباً 30 ہزار روپے ہے

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی کسی بھی ریمارک کا اثر انیل امبانی کی جانب سے دائر دیوانی مقدمات کے حتمی فیصلے پر نہیں پڑے گا۔ عدالت نے زیر التوا مقدمات کی جلد سماعت کی بھی ہدایت دی،

مالی سال 2026 میں مجموعی برآمدات میں 1 فیصد اضافہ ہوا، جس میں امریکہ کے ٹیرف کے اثر کو نئے بازاروں میں برآمدات بڑھا کر متوازن کیا گیا۔اشیا کے تجارتی خسارے میں کمی کی بڑی وجہ سونے کی درآمد میں 59 فیصد اور چاندی کی درآمد میں 63 فیصد کی گراوٹ رہی۔

ایچ ایس بی سی گلوبل انویسٹمنٹ ریسرچ کے مطابق اس بار ایم پی سی کی میٹنگ کا محور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا ہونے والی تشویش کو کم کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق آر بی آئی مختلف ممکنہ حالات اور اپنی حکمت عملی سے متعلق واضح اشارے دے سکتا ہے۔