Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani bribery, fraud case: ‘تفتیش ہوئی تو کڑیاں مودی سے ملیں گی’، امریکہ میں اڈانی کے خلاف وارنٹ جاری ہونے پر کانگریس کا حملہ

امریکہ میں نیویارک کی عدالت میں گوتم اڈانی سمیت سات لوگوں پر 265 ملین ڈالر (تقریباً 2250 کروڑ روپے) کی رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی۔(فائل فوٹو)

نئی دہلی : اڈانی گروپ کے چیئرمین اور صنعت کار گوتم اڈانی پر نیویارک کی ایک عدالت میں رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اڈانی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ اب کانگریس نے اس پورے معاملے کو ل کروزیراعظم کوگھیراہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا کہ یہ الزام ہے کہ اڈانی نے امریکہ میں ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے 2200 کروڑ روپے کی رشوت دی ہے۔

کانگریس نے پی ایم مودی پر کیا حملہ 

کانگریس نے لکھا کہ جب اس معاملے کی تحقیقات شروع ہوئی تو تحقیقات کو روکنے کی بھی سازش رچی گئی۔ اب امریکہ میں اڈانی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ عجیب بات ہے… کانگریس مسلسل اڈانی اور اس سے جڑے گھوٹالوں کی تحقیقات کی بات کر رہی ہے، لیکن نریندر مودی اپنی پوری طاقت سے اڈانی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگریس نے مزید لکھا کہ وجہ صاف ہے- اگر اڈانی کی تحقیقات کی جائیں تو ہر لنک نریندر مودی سے جوڑا جائے گا۔

کیا ہے سارا معاملہ؟

درحقیقت امریکہ میں نیویارک کی عدالت میں گوتم اڈانی سمیت سات لوگوں پر 265 ملین ڈالر (تقریباً 2250 کروڑ روپے) کی رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ گوتم اڈانی سمیت ان ساتوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اگلے 20 سالوں میں 2 بلین ڈالر کے سولر پاور پلانٹس کے پروجیکٹ کو حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر سے زیادہ کی رشوت کی پیشکش کی۔

نیویارک کے استغاثہ نے الزام لگایا کہ گوتم اڈانی اور دیگر نے امریکی سرمایہ کاروں سے رقم بٹورنے کی کوشش میں جھوٹ بولا۔ گرین انرجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی اور سابق ایم ڈی -سی ای او پر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read