Bharat Express DD Free Dish

Entertainment News

کام کے محاذ پر  ڈینی کو آخری بار 2022 کی فلم اونچی میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ کسی پروجیکٹ میں نظر نہیں آئے۔ ڈینی اب خود کو فلمی دنیا سے دور کر چکے ہیں اور عوامی تقریبات میں بھی نظر نہیں آتے۔

انہوں نے پروڈکشن کی دنیا میں شو 'موونگ ان ود ملائیکا' کے ذریعے قدم رکھا۔ اس سے قبل وہ فلم "دبنگ" کو بھی شریک پروڈیوس کر چکی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملائکہ نہ صرف کیمرے کے سامنے، بلکہ اس کے پیچھے بھی کمال رکھتی ہیں۔

سلمان خان کے مداحوں کے لیے اچھی خبریہ ہے کہ ان کے پاس ابھی بھی کئی پروجیکٹس ہیں۔ ان کی فلم “بیٹل آف گلوان” کا پہلا شیڈول حال ہی میں لداخ میں مکمل ہوا تھا اور اب دوسرے شیڈول  پر کام جاری ہے۔ اس باراس کی شوٹنگ ایک خاص گانے کے لیے کی جا رہی …

 سوناکشی سنہا نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تصاویر شیئر کیں اور کیپشن میں لکھا، "انسانی تاریخ میں سب سے طویل حمل کا عالمی ریکارڈ ہولڈر (ہمارے پیارے اور انتہائی ذہین میڈیا کے مطابق 16 ماہ اور اس سے زیادہ)،

'کنتارا چیپٹر 1' نے 8 دنوں کے پہلے ہفتے میں 337.4 کروڑ روپے کے کلیکشن کئے۔ 9 ویں دن کنڑ فلم کا کلیکشن 22.25 کروڑ روپے تھا، جب کہ 10 ویں دن ہی یہ تقریباً 73 فیصد بڑھ کر 38.5 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

ممبئی ایئرپورٹ پر ہاردک پانڈیا اور مہیکا شرما کو بلیک آؤٹ فٹ میں دیکھا گیا۔ دونوں کی پہلی عوامی موجودگی اور میچنگ لُک نے مداحوں میں ان کے رشتے  کے حوالے سے تجسس بڑھا دیا ہے۔

اپنی فلموں سے کروڑوں روپے کماکر باکس آفس پر راج کرنے والے ایس ایس راجامولی جمعہ کو اپنی 52 ویں سالگرہ منائیں گے۔ ہدایت کار کرناٹک کے رائچور میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد پہلے ہی فلم انڈسٹری سے وابستہ تھے۔

کتاب کے اجراکے موقع پرمسٹر این وینکٹارمن، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل، جنہوں نے پیش لفظ بھی لکھا، مصنف کو مبارکباد دی اور کہا، "اس کتاب  سے کافی کچھ سیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے، یہ کتاب قارئین کواپنی طرف راغب کرتی ہے  ۔"

پی ایم نریندر مودی نے پنڈت چھنو لال مشرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ لی گئی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: معروف کلاسیکی گلوکار پنڈت چھنو لال مشرا جی کے انتقال سےمجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی بھارتی فن اور ثقافت کے لئے وقف کردی

رحمان نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اب دہلی ہائی کورٹ کی دو ججوں پر مشتمل بینچ نے اس واحد جج کے حکم کو اصولی طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ججز نے اس معاملے میں یکساں رائے قائم کی ہے اور متنازع حکم کو مزید نافذ نہیں سمجھا جائے گا۔