Bharat Express DD Free Dish

Delhi University

دہلی یونیورسٹی میں پی جی نشست کی الاٹمنٹ امیدوار کی میرٹ، متعلقہ پروگرام کے لیے اہلیت، سماجی زمرے اور دستیاب نشستوں کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ بعض حالات میں یکساں اسکور حاصل کرنے والے امیدواروں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے یونیورسٹی کے ٹائی بریکنگ قواعد بھی لاگو کیے جاسکتے ہیں۔یونیورسٹی نے صرف ان پروگرامز کے کم از کم الاؤکیشن اسکور جاری کیے ہیں جن میں اسپاٹ راؤنڈ-2 کے دوران نشستیں الاٹ کی گئی تھیں۔

حکم نامے کے مطابق پروفیسر یوگیش سنگھ کی ملازمت کی شرائط و ضوابط دہلی یونیورسٹی کے ایکٹ، اسٹیچیوٹس، آرڈیننسز اور دیگر متعلقہ قواعد کے مطابق ہی برقرار رہیں گے۔

یہ کتاب آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ایک نہایت اہم اورمتنازع دوریعنی ایمرجنسی (1975–1977) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں آئینی اداروں، شہری آزادیوں، جمہوری طرزِ حکمرانی اورانسانی حقوق پرایمرجنسی کے اثرات کا تاریخی اورفکری تجزیہ کیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نارتھ ویسٹ ضلع کی اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وجے نگر ڈبل اسٹوری علاقے میں ایک نوجوان ہائیڈروپونک گانجا فروخت کر رہا ہے۔ اطلاع کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے نگرانی اور تفتیش کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ جسیم سیادل فرسان کو گرفتار کر لیا۔

بارہویں پاس افراد کے لیے سنہری موقع، آن لائن درخواستیں جاری، کورس کی کلاسز آف لائن موڈ میں کرائے جایئنگے۔ کلاسز شام چھ سے سات بجے تک، پیر سے جمعرات منعقد ہوں گی

طلبہ نے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر آریامن اور ان کے ساتھیوں پر غنڈہ گردی اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اے بی وی پی سے وابستہ افراد نے زبردستی کیمپس میں داخل ہو کر طلبہ کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام،ثقافت، آب و ہوا اور تاریخ پر وسیع غور و فکر کیا گیا۔

رامپوررضا لائبریری اینڈ میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹرپشکر مشرا نے خط میں کہا کہ ڈاکٹر سید مبین زہرا کی شاندار علمی حیثیت، وسیع تجربہ اورگہری تعلیمی بصیرت سے رامپور رضا لائبریری بلا شبہ بے حد مستفید ہوگی۔ ان کی دور اندیشی اور مہارت لائبریری کی اشاعتی سرگرمیوں میں اہم رہنمائی فراہم کرے گی۔

وزیر اعظم مودی کی تعلیمی ڈگری سے متعلق معلومات کو عوامی کرنے کے مطالبے پر دہلی ہائی کورٹ میں جاری قانونی سماعت کے دوران دہلی یونیورسٹی نے اپنا واضح موقف پیش کیا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے عدالت میں کہا گیا کہ اس معاملے کو بلاوجہ اچھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد محض سنسنی پھیلانا ہے، نہ کہ کسی حقیقی عوامی مفاد کا تحفظ۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی وجہ نہ تو تحریری طور پر اور نہ ہی زبانی طور پر بتائی گئی۔ ان کے مطابق  زمین اور حقوق جیسے موضوعات پر گفتگو سے حکومت کو ناگواری محسوس ہوئی ہوگی۔