Bharat Express DD Free Dish

Crime News

حادثے کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں عمارت سے بلند ہوتے شعلے اور دھویں کے بادل واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔تاحال آگ لگنے کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ پولیس اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں اس سے قبل بھی آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

نہاتے ہوئے وہ اچانک ندی کے ایک گہرے حصے میں پھسل گیا اور تیز بہاؤ کی زد میں آ کر پانی میں ڈوب گیا۔ دوستوں نے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی اور زور زور سے مدد کے لیے آوازیں لگائیں، لیکن اس وقت جائے وقوعہ پر کوئی ایسا شخص موجود نہیں تھا جو فوری طور پر اس کی مدد کر سکتا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

غازی آباد کے کھوڑا میں ایک نوجوان نے گھر میں گھس کر دو بہنوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ اس اچانک حملے میں دونوں بہنیں شدید زخمی ہوگئیں۔ واردات کو انجام دے کر ملزم موقع سے فرارہوگیا۔

رات کے وقت زیادہ تر رہائشی گہری نیند میں تھے، اس لیے آگ اور دھویں کے باعث عمارت میں افراتفری مچ گئی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے جبکہ کئی افراد بالائی منزلوں پر پھنس گئے۔

پولیس حکام کے مطابق نارتھ ویسٹ ضلع کی اینٹی نارکوٹکس اسکواڈ کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وجے نگر ڈبل اسٹوری علاقے میں ایک نوجوان ہائیڈروپونک گانجا فروخت کر رہا ہے۔ اطلاع کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے نگرانی اور تفتیش کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 22 سالہ جسیم سیادل فرسان کو گرفتار کر لیا۔

گھر میں موجود فرنیچر، ٹی وی، برقی تاریں اور دیگر قیمتی سامان خاکستر ہو گیا۔ باتھ روم اور ٹوائلٹ کے دروازے، گیزر اور دیگر تنصیبات بھی آگ کی زد میں آ کر تباہ ہو گئیں، جب کہ باورچی خانے میں رکھا فریج اور گھریلو سامان بھی شدید متاثر ہوا۔آگ اور دھویں کے باعث فلیٹ کی تمام دیواریں سیاہ پڑ گئی ہیں۔

اس دلخراش حادثے میں 9 افراد موقع پر ہی یا اسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑ گئے، جبکہ 10 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ شدید زخمی افراد کو بہتر علاج کے لیے فرید کوٹ کے گرو گوبند سنگھ میڈیکل کالج و اسپتال ریفر کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق نابالغ اچانک چلتی گاڑی کے سامنے آ کر خود کو زخمی ظاہر کرتا اور زور زور سے شور مچاتا تھا۔ گاڑی کا ڈرائیور جب صورتحال جاننے کے لیے گاڑی سے باہر نکلتا تو دوسرا ملزم گاڑی کی دوسری جانب سے کھڑکی کھول کر موبائل فون یا دیگر قیمتی سامان چرا کر فرار ہو جاتا تھا۔ اس طریقہ واردات کے ذریعے گینگ نے متعدد افراد کو نشانہ بنایا۔

افسوسناک طور پر اس حادثے میں اب تک 10 مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔