Bharat Express DD Free Dish

Crime News

یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں 23 سالہ ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں سزا کا خوف پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا،

چراغ کے والد منوج تیاگی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک کامیاب ایتھلیٹ بنانے کے لیے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی تھی اور یہاں تک کہ زمین بھی فروخت کر دی تھی تاکہ اس کے خواب پورے ہو سکیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چراغ یا ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی،

ابتدائی طور پر عمارت کے ساتھ واقع کینٹین میں دبے چار افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں مزید افراد کو ملبے سے نکالا گیا۔ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پولیس نے گرین کوریڈور بھی قائم کیا تاکہ ایمبولینسیں بغیر کسی رکاوٹ کے اسپتال تک پہنچ سکیں

مقامی افراد اور عینی شاہدین کے مطابق جہانگیر پوری کے سی بلاک میں عید کی رات لوگ جشن اور خوشیوں میں مصروف تھے کہ اچانک شور و غل اور چیخ و پکار کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ارباز اپنے گھر کے قریب موجود تھا، جب چند لڑکوں کے ساتھ اس کی کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی

ممبئی میں صحافیوں سےبات  کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے اور قصورواروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زہریلی شراب کے کاروبار میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سی بی آئی نے گیری بالا سنگھ کو جمعرات کے روز ان کے کٹارا ہلز واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی پیشگی ضمانت مسترد کیے جانے کے چند گھنوں بعد ہی سی بی آئی ٹیم نے صبح تقریباً 10:30 بجے ان سے پوچھ گچھ شروع کی،

طلاعات کے مطابق اس پل کی تعمیراتی منصوبے کو راجیہ سبھا رکن بابورام نشاد کی کوششوں کے بعد منظوری ملی تھی۔ یہ پل ان کے آبائی گاؤں موراکندر پرسنی کے قریب تعمیر کیا جا رہا تھا اور علاقے کے کئی دیہات کو آپس میں جوڑنے کے لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا تھا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم مٹولی مدھوسودن گپتا، سی او یادویندر یادو اور ایس ایچ او مہیش پاٹھک فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر فائر بریگیڈ کو طلب کیا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ گاؤں کے لوگ بھی کنوؤں اور ہینڈ پمپوں سے پانی لا کر آگ بجھانے میں لگ گئے،

عینی شاہدین کے مطابق آگ چند ہی منٹوں میں ایک جھگی سے دوسری جھگی تک پھیلتی چلی گئی۔ مقامی لوگوں نے ابتدائی طور پر خود آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن شعلوں کی شدت کے سامنے ان کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں جسپریت سنگھ عرف بلا، بھوپندر سنگھ عرف راجو، بلجندر سنگھ عرف سنی، جگروپ سنگھ عرف بلا اور سکھ چین سنگھ عرف سکھی شامل ہیں۔ پولیس نے 22 مئی کو تمام ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے تین روزہ پولیس ریمانڈ حاصل کر لیا ہے تاکہ ان سے مزید وارداتوں اور ممکنہ ساتھیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکیں۔