Bharat Express DD Free Dish

Crime News

پولیس کے مطابق نابالغ اچانک چلتی گاڑی کے سامنے آ کر خود کو زخمی ظاہر کرتا اور زور زور سے شور مچاتا تھا۔ گاڑی کا ڈرائیور جب صورتحال جاننے کے لیے گاڑی سے باہر نکلتا تو دوسرا ملزم گاڑی کی دوسری جانب سے کھڑکی کھول کر موبائل فون یا دیگر قیمتی سامان چرا کر فرار ہو جاتا تھا۔ اس طریقہ واردات کے ذریعے گینگ نے متعدد افراد کو نشانہ بنایا۔

افسوسناک طور پر اس حادثے میں اب تک 10 مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ ریمارکس جسٹس آر نٹراج نے عصمت دری کے ایک مقدمے میں 23 سالہ ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران دیے۔ عدالت نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں سزا کا خوف پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا،

چراغ کے والد منوج تیاگی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک کامیاب ایتھلیٹ بنانے کے لیے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی تھی اور یہاں تک کہ زمین بھی فروخت کر دی تھی تاکہ اس کے خواب پورے ہو سکیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چراغ یا ان کے خاندان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی،

ابتدائی طور پر عمارت کے ساتھ واقع کینٹین میں دبے چار افراد کو نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں مزید افراد کو ملبے سے نکالا گیا۔ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پولیس نے گرین کوریڈور بھی قائم کیا تاکہ ایمبولینسیں بغیر کسی رکاوٹ کے اسپتال تک پہنچ سکیں

مقامی افراد اور عینی شاہدین کے مطابق جہانگیر پوری کے سی بلاک میں عید کی رات لوگ جشن اور خوشیوں میں مصروف تھے کہ اچانک شور و غل اور چیخ و پکار کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ارباز اپنے گھر کے قریب موجود تھا، جب چند لڑکوں کے ساتھ اس کی کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی

ممبئی میں صحافیوں سےبات  کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اس کیس کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے اور قصورواروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ زہریلی شراب کے کاروبار میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سی بی آئی نے گیری بالا سنگھ کو جمعرات کے روز ان کے کٹارا ہلز واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی پیشگی ضمانت مسترد کیے جانے کے چند گھنوں بعد ہی سی بی آئی ٹیم نے صبح تقریباً 10:30 بجے ان سے پوچھ گچھ شروع کی،

طلاعات کے مطابق اس پل کی تعمیراتی منصوبے کو راجیہ سبھا رکن بابورام نشاد کی کوششوں کے بعد منظوری ملی تھی۔ یہ پل ان کے آبائی گاؤں موراکندر پرسنی کے قریب تعمیر کیا جا رہا تھا اور علاقے کے کئی دیہات کو آپس میں جوڑنے کے لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا تھا۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی ایم مٹولی مدھوسودن گپتا، سی او یادویندر یادو اور ایس ایچ او مہیش پاٹھک فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر فائر بریگیڈ کو طلب کیا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ گاؤں کے لوگ بھی کنوؤں اور ہینڈ پمپوں سے پانی لا کر آگ بجھانے میں لگ گئے،