Bharat Express DD Free Dish

Congress

کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے حال ہی میں آپریشن بلیو اسٹار کے حوالے سے ایک بیان دیا، جس پر شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی ( ایس جی پی سی) کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ آپریشن بلیو اسٹار ایک غلط طریقہ تھا اور اندرا گاندھی نے اس کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ اکیلے اندرا گاندھی کا نہیں تھا بلکہ تمام محکموں کا مشترکہ فیصلہ تھا۔

بہارکے سابق وزیر اعلیٰ تیجسوی یادوآج دہلی آسکتے ہیں۔ امکان ہے کہ راہل گاندھی سے ملاقات کریں گے اورعظیم اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم سے متعلق تبادلہ خیال کرکے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے آکاش امبانی نے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے ایک انقلابی قدم ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ان کے جیسا لیڈر ملا۔

 ممبئی حملے پربیان دینے کے بعد سابق مرکزی وزیرپی چدمبرم کانگریس میں ہی گھرگئے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرراشد علوی نے کہا ہے کہ پی چدمبرم 16 سال بعد بیان کیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی وقت استعفیٰ کیوں نہیں دے دیا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ’’دنیا میں بھارت کا کوئی بڑا دشمن نہیں ہے۔ اگر کوئی دشمن ہے، تو وہ ہے دوسروں پر ہماری نربھرتا۔ ہمیں اس دشمن کو شکست دینی ہے۔‘‘

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج بھارت بانس سے ایتھانول تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو یاد دلایا کہ اپوزیشن کے دور اقتدار میں بانس کاٹنے پر پابندی تھی اور ایسا کرنے پر جیل بھی ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بانس قبائلی برادریوں کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

کانگریس کی حکمرانی کے دوران سیمی کنڈکٹرز اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبوں میں مواقع ضائع ہوئے۔ اس کے برعکس، مودی حکومت کی ’میک ان انڈیا‘ اور ’انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن‘ جیسی مہمات نے بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا۔ کانگریس کی مخالفت اکثر سیاسی نمائش کے لیے ہوتی ہے، جبکہ مودی حکومت شمولیتی ترقی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کرتی ہے۔

واضح رہے کہ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے نائب صدر کے انتخاب میں ووٹنگ سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دریں اثنا کئی علاقائی پارٹیوں جیسے بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے انتخابی عمل سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔

لوک سبھا کے کل 543 ممبران پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے 233 منتخب اور 12 نامزد ممبران نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے۔