Bharat Express DD Free Dish

Congress

'ووٹ چوری' مہم سے متعلق کانگریس نے ایک اورویڈیو سوشل میڈیا پر شیئرکیا ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے لوگوں کے ووٹوں کی چوری ہو رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ اب اورانہیں عوام بیدار ہوگئی ہے۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوانے والوں کو یاد کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے انھیں خراج  بھی پیش کیا۔

بی جے پی کی ترنگا یاترا پر دلوائی نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ترنگے کی مخالفت کی ہے۔ ترنگے کا رنگ سبز ہے اور انہوں نے ہمیشہ سبز رنگ کے خلاف بات کی ہے۔ اب جب وہ ترنگا لے کر پریڈ کر رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ ترنگے میں اشوک چکر کی بی جے پی نے ہمیشہ ہی مخالفت کی ہے۔ بی جے پی دکھاوا کر رہی ہے۔ ترنگا کانگریس کا نشان ہے۔ 26 جنوری اور 15 اگست کے موقع پر کانگریس پارٹی اپنے علاقوں میں یاترا نکالتی رہی ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ شکایت کرنے والے ناتھورام گوڈسے اورگوپال گوڈسے کی اولاد ہیں، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے بی جے پی لیڈر رونیت سنگھ بٹو اورترویندرسنگھ مرواہ کا بھی ذکرکیا۔

کانگریس نے اپنی ووٹ چوری مہم کومزید تیزکرتے ہوئے سوشل میڈیا پرایک ویڈیوشیئرکیا، جس میں دو لوگ فرضی ووٹ ڈالتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ راہل گاندھی نے ویڈیوشیئرکرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے ووٹ کی چوری، آپ کے حقوق کی چوری اورآپ کی پہچان کی چوری ہے۔

اداکار کے کے مینن کی وضاحت کے باوجود لوگ انہیں سخت ٹرول کر رہے ہیں۔ صارفین نے اس پر سوالات کی جھڑی لگا دی ہے۔ کئی لوگ پوچھ رہے ہیں، ’’کیا آپ اب سیاست میں انٹری لینے جا رہے ہیں؟‘‘ ’’ کانگریس کے لیے مہم کیوں چلا رہے ہیں؟‘‘ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ہندوستان میں انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے؟‘‘

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈارکا کہنا ہے کہ جموں و کشمیرکے عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے اوراپنے نمائندوں کو منتخب کیا ہے۔ منتخب نمائندے ہی مقامی لوگوں سے متعلق معاملات کوآگے بڑھائیں گے، ایسے میں نامزد اراکین کیا کریں گے۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ وزارت داخلہ کا جواب ہے، جسے ہائی کورٹ نے مرکزسے طلب کیا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا کہ ’’جب جموں و کشمیر میں ایک منتخب حکومت موجود ہو اور اسے نظرانداز کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر کو اراکین منتخب کرنے دیا جائے تو یہ عوامی مینڈیٹ کی توہین اور جمہوریت پر کاری ضرب ہے۔‘‘

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھایا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج میں ہم سب پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سنجیدہ سوالات کا سنجیدہ جواب کیوں نہیں دے سکا؟

اشوک گہلوت نے سوال کیا کہ اگر راہل گاندھی کا انکشاف کسی تحقیقاتی صحافی یا میڈیا ادارے نے کیا ہوتا تو کیا الیکشن کمیشن ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتا یا ان سے حلف نامہ طلب کرتا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا، چین اور روس جیسے ممالک میں بھی ایک پارٹی کی ہی حکومت ہے، وہاں بھی الیکشن کمیشن الیکشن کرواتا ہے۔ ان الیکشن کمیشنوں اور انتخابات کا کیا حال ہے پوری دنیا جانتی ہے۔ کیا ایسا ہی ہندوستان میں بھی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟