Bharat Express DD Free Dish

CJI BR Gavai

اس موقع پر انھوں نے نیپال کی سپریم کورٹ کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو صنفی انصاف، رازداری، ماحولیاتی تحفظ، اور مقامی آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔

چیف جسٹس گوئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عدالتیں محض تنازعات کے حل کا فورم نہیں بلکہ جمہوریت، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ کی ضامن ہیں۔ انہوں نے نیپالی سپریم کورٹ کی جانب سے صنفی انصاف، پرائیویسی، اور ماحولیاتی حقوق پر دیے گئے تاریخی فیصلوں کی کھل کر تعریف کی۔

سی جے آئی نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں انسانی وقار کا لفظ براہِ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریحات میں اسے بنیادی حقوق کی بنیاد تسلیم کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 14 میں من مانی پر پابندی، آرٹیکل 15 میں امتیاز کے خلاف تحفظ اور آرٹیکل 16 میں مساوی مواقع کی ضمانت، سب اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہر شخص کی عزت نفس محفوظ رہے۔

’21ویں صدی میں عدالتی فکر‘ کے موضوع پر ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی یادگاری لیکچر میں چیف جسٹس کا خطاب، کہا — قیدی بھی انسان ہیں، جانور نہیں، آئین نے ہر فرد کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو مجرم قرار دیا جاتا ہے، تب بھی وہ قانون کی حکمرانی کا حقدار ہے۔

انھوں نے اپیل کی کہ قانونی امداد کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے تاکہ ہر شخص اپنے حقوق کو سمجھ سکے۔

صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ سے یہ وضاحت چاہی ہے کہ آیا صدر یا گورنر کو کسی بل کی منظوری کے لیے وقت کا پابند کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

جسٹس گوئی نے کہا کہ یومِ آزادی صرف قومی ترانے یا پرچم کشائی کا دن نہیں، بلکہ یہ ان قربانیوں کی یاد ہے جنھوں نے ہمیں یہ آزادی دی۔

سی جے آئی بی آر گوئی جسٹس سدھانشو دھولیا کی الوداعیہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جو 9 اگست کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔