چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی (فائل فوٹو)
چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ قانون کے مناسب طریقہ کار پر عمل کیے بغیر ملزمین کے مکانات کو مسمار کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے نے شہریوں کے حقوق کو برقرار رکھا ہے۔ واضح رہے کہ وہ سپریم کورٹ کی اس بنچ کا حصہ تھے جس نے پچھلے سال ’’فوری بلڈوزر جسٹس‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور جائیدادوں کو مسمار کرنے کے بارے میں پورے ہندوستان میں رہنما خطوط مرتب کیے تھے۔
ہفتہ کو پنجی میں گوا ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس گوئی نے ریزرو کیٹیگری میں کریمی لیئر کے بارے میں اپنے تاریخی فیصلے کے پیچھے دلیل کی بھی وضاحت کی۔ تقریب کے دوران سی جے آئی گوئی نے کہا ’’میں واقعی خوش ہوں کہ ہم آئین کے ایک محافظ کے طور پر ان شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ کر سکے جن کے مکانات قانون کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر گرائے گئے تھے۔‘‘
کسی ایک کی غلطی کی سزا پورے خاندان کو دینا غلط: سی جے آئی
انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کی عمارتوں یا مکانات قانون کی گرفت میں بھی نہیں آتے تھے اور بس ان پر بعض الزامات عائد کیے گئے تھے، ان کی عمارتوں کو قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر مسمار کیا جا رہا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مکانات صرف ایک ملزم کے نہیں ہیں، لہٰذا وہاں رہنے والے خاندان کے دیگر افراد کو ان کی کوئی غلطی نہ ہونے کے باوجود تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو مجرم قرار دیا جاتا ہے، تب بھی وہ قانون کی حکمرانی کا حقدار ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں قانون کی حکمرانی سب سے اہم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم رہنما اصول وضع کر سکے۔ ہم ایگزیکٹو کو منع کر سکتے ہیں کہ وہ جج نہ بنے۔‘‘ سی جے آئی گوئی نے کہا کہ ہندوستانی آئین ایگزیکٹو، عدلیہ اور مقننہ کے اختیارات کی علیحدگی کو تسلیم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر ایگزیکٹو کو جج بننے کی اجازت دی جاتی ہے، تو ہم اقتدار کی علیحدگی کے تصور پر ہی ضرب لگائیں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

