چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے ہفتہ کو گوا کے وی ایم سالگاؤکر لاء کالج میں ایک پروگرام کے دوران کہاکہ جب تک عام شہری اپنے قانونی حقوق سے واقف نہیں ہوں گے، کوئی قانونی طریقہ ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔ انھوں نے اپیل کی کہ قانونی امداد کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے تاکہ ہر شخص اپنے حقوق کو سمجھ سکے۔
سی جے آئی نے بچوں کا بڑھایا حوصلہ
سی جے آئی گوئی نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور راجستھان کے ہند پاک سرحدی علاقے میں قانونی امداد کے کیمپوں میں حصہ لیا تھا۔ طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آپ کل کے ہندوستان کا مستقبل ہیں۔ امتحان کے نمبر کامیابی کا پیمانہ نہیں ہیں، لیکن محنت، لگن اور تندہی ہی حقیقی کامیابی لاتی ہے۔‘‘
سالگاؤکر لاء کالج کی تعریف کی
پروگرام میں سی جے آئی گوئی نے سالگاؤکر لاء کالج کے اس اقدا کی تعریف کی، جس کے تحت نوجوان وکلاء کو پریکٹس کے لیے تین کمرے دیے گئے ہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ دیگر لاء کالجز بھی اس طرح کے اقدامات کو اپنائیں تو بہتر ہوگا۔ سی جے آئی نے مزید کہا کہ ’’آج کل نیشنل لاء یونیورسٹیوں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے لیکن دیگر کالجوں سے بھی ہونہار طلبہ آرہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ چھوٹے شہروں کے کالجوں میں قانونی تعلیم کا ڈھانچہ مضبوط کیا جائے۔‘‘
یہ اپیل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل جوڈیشل ڈیٹا گرڈ کے مطابق ملک میں جولائی 2025 تک 5.29 کروڑ مقدمات زیر التوا ہیں جن میں سے 4.65 کروڑ مقدمات ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں ہیں۔ ہائی کورٹس میں 63.30 لاکھ کیسز اور سپریم کورٹ میں 86,742 کیسز زیر التوا ہیں۔ وہیں نچلی عدالتوں میں ججوں کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ منظور شدہ 25,843 آسامیوں کے خلاف صرف 21,122 جوڈیشل افسران کام کر رہے ہیں۔ وزارت انصاف کے مطابق ان آسامیوں کو بھرنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور متعلقہ ہائی کورٹس کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




