چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی (فائل فوٹو)
چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) جسٹس بی آر گوئی نے کہا ہے کہ ’’عدالتی سرگرمی، عدالتی دہشت گردی نہیں بننی چاہیے۔‘‘ یہ تبصرہ انھوں نے اُس وقت کیا جب سپریم کورٹ میں مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے صدر جمہوریہ کے ذریعہ پوچھے گئے 14 سوالات پر بحث کے دوران عدلیہ کی حدود سے متعلق نکات اٹھائے۔ یہ معاملہ صدر اور ریاستی گورنروں کے لیے قانون سازی کی منظوری دینے کی مدت متعین کرنے سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سوریہ کانت، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اتل چندورکر پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی۔
واضح رہے کہ صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ سے یہ وضاحت چاہی ہے کہ آیا صدر یا گورنر کو کسی بل کی منظوری کے لیے وقت کا پابند کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حکومتِ ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس بات کی مخالفت کی کہ عدلیہ کو اس عمل میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ تشار مہتا نے کہا کہ عوامی نمائندے براہ راست عوام سے جُڑے ہوتے ہیں اور ان کے تجربے کو کمتر نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل میں سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے ہونا چاہیے، عدالتی مداخلت یا ڈیڈ لائنز کے ذریعے نہیں۔
چیف جسٹس کا ردعمل
چیف جسٹس گوئی نے واضح کیا کہ عدالت نے کبھی عوامی نمائندوں کے خلاف کچھ نہیں کہا، بلکہ عدالتی فعال کردار کو ’’عدالتی دہشت گردی‘‘ میں تبدیل ہونے سے بچانے کی بات کی ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی گورنر کسی بل کو غیر معینہ مدت کے لیے روک دے تو کیا عدالت بے بس ہو جائے گی؟ اس پر جسٹس نرسمہا نے بھی کہا کہ وقت کا تعین نہ سہی، لیکن کوئی طریقہ کار تو ہونا چاہیے۔
دریں اثنا تشار مہتا نے آئین کے آرٹیکل 200 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کے پاس بل پر فیصلہ کرنے کے چار اختیارات ہیں: منظوری دینا، منظوری روکنا، ترامیم کے ساتھ واپس بھیجنا، یا صدر جمہوریہ کے لیے محفوظ رکھنا۔ ان کے مطابق ہر آپشن آزاد اور بااختیار ہے۔ یہ اہم معاملہ ملک کی وفاقی ڈھانچے میں قانون سازی کے طریقہ کار، مرکز و ریاست کے اختیارات اور عدلیہ کے دائرۂ کار سے جُڑا ہوا ہے۔ اب عدالت 26 اگست کو اس اہم آئینی سوال پر مزید سماعت کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



