Bharat Express DD Free Dish

CJI Gavai at Nepal-India Judicial Dialogue: ’’مختلف ممالک کی عدلیہ کو ایک دوسرے سے سیکھنے کی ضرورت ہے‘‘، چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے نیپال میں ’’نیپال-انڈیا جوڈیشل ڈائیلاگ 2025‘‘ سے کیا خطاب

اس موقع پر انھوں نے نیپال کی سپریم کورٹ کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو صنفی انصاف، رازداری، ماحولیاتی تحفظ، اور مقامی آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منعقدہ ’’نیپال-انڈیا جوڈیشل ڈائیلاگ 2025‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا ہے کہ آج کے عالمی دور میں عدلیہ کا کردار نہ صرف اندرونی سطح پر اہم ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عدلیہ ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا عدالتی نظام کی ترقی اور مؤثریت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس گوائی ’’عدلیہ کا ارتقائی کردار، خاص طور پر سپریم کورٹ آف انڈیا کی قانونی پیش رفت اور عدالتی اصلاحات‘‘ کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر انھوں نے نیپال کی سپریم کورٹ کی ان کوششوں کی بھی تعریف کی جو صنفی انصاف، رازداری، ماحولیاتی تحفظ، اور مقامی آبادیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ ’’ہندوستان اور نیپال دونوں میں عدلیہ عوام کی امیدوں اور آئینی اصولوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ عدلیہ صرف تنازعات کے حل تک محدود نہیں، بلکہ انصاف، مساوات اور انسانی وقار کو عملی طور پر یقینی بنانے کی بھی ذمہ دار ہے۔‘‘ انھوں نے ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ اور اس کے آئینی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ’’بنیادی ڈھانچے کے اصول‘‘ (Basic Structure Doctrine) کا ذکر کیا، جو اب بھارتی آئینی قانون کا ایک مستحکم اصول بن چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے اس نظریے کو دیگر کئی ممالک کی عدالتوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔

چیف جسٹس نے مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے صنفی انصاف، رازداری کے حق، انتخابی اصلاحات، ماحولیاتی انصاف، معذور افراد کے حقوق اور انسانی وقار جیسے مسائل پر قابل ذکر فیصلے دیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کرتے ہوئے صرف رسمی مساوات تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ حقیقی اور معنوی مساوات کے لیے بھی جدوجہد کی ہے۔‘‘ چیف جسٹس گوئی نے عدالتی نظام میں انتظامی اور ادارہ جاتی اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جیسے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کیس مینجمنٹ، اور کووِڈ-19 کے دوران عدلیہ کی ورچوئل کارروائیاں۔ انھوں نے ’ورچوئل جسٹس کلاک‘ کا بھی حوالہ دیا، جو ملک بھر کی عدالتوں میں مقدمات کے اندراج، فیصلے اور زیر التواء مقدمات کا شفاف جائزہ فراہم کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔