Bharat Express DD Free Dish

CJI BR Gavai

جسٹس گوئی نے کہا کہ ’’ایک وقت جو لوگ ’اچھوت‘ کہلاتے تھے، آج انھی میں سے ایک شخص ہندوستانی عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہو کر یہاں بول رہا ہے۔‘‘

جسٹس بی آر گوئی  نے نشاندہی کی کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ہدایتی اصولوں کو سماجی اور معاشی انصاف کا سنگ بنیاد بنایا، جسے انہوں نے ’پوسٹ ڈیٹڈ چیک‘ کہا، لیکن ساتھ ہی اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان ایک دن ان چیکوں کو کیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

ہندوستانی عدلیہ نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔ عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہفتے میں، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ پلاننگ کے ساتھ مل کر اے آئی کے اخلاقی استعمال پر پالیسی دستاویز کی تیاری کا عمل شروع کیا۔ اپنے خطاب میں، انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، اگر آئین پرستی اور ہمدردی سے متاثر ہو، تو انصاف کو نظریاتی تصور سے ایک اجتماعی اور زندہ تجربے میں بدل سکتی ہے۔

جسٹس بی آر گوئی  نے کہا کہ سنگاپور کی غیر جانبداری، کارکردگی اور تکنیکی اختراعات نے اسے ہندوستانی فریقوں کے لیے ترجیحی ثالثی کا مقام بنا دیا ہے۔ 2011 سے 2022 تک SIAC میں 1,300 سے زیادہ ثالثی میں 2,000 سے زیادہ بھارتی پارٹیوں نے حصہ لیا، اور اس عرصے کے دوران، بھارتی عدالتوں نے SIAC کے کسی بھی ایوارڈ کو منسوخ نہیں کیا۔

کانفرنس میں برطانیہ کے ایک سینئر جج نے بھی شرکت کی جنہوں نے ہندوستان کے عدالتی نظام کی تعریف کی اور کہا کہ ہندوستان کا قانونی ڈھانچہ عالمی سطح پر ایک مثال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تعلیم اور تربیت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

ججوں کی تقرری کے عمل پر بات کرتے ہوئے، چیف جسٹس گوائی نے اسے ایگزیکٹو کے اثر سے آزاد رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کالجیم سسٹم پر تنقید کو تسلیم کیا لیکن کہا، "کوئی بھی حل عدالتی آزادی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔

جسٹس گوئی الہ آباد ہائی کورٹ میں وکلاء کے لیے 2500 چیمبروں اور کثیر سطحی پارکنگ کی سہولت والے ایک کثیر المنزلہ کمپلیکس ہاؤسنگ کے افتتاح کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

عرضی  گزار کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے خود حکم جاری کیا تھا، اس معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔ ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ کھسرہ نمبر 279 کی زمین دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ہے اور اس پر غیر قانونی طور پر مکانات بنائے گئے ہیں۔

سالسٹرجنرل تشارمہتا نے کہا کہ 1923 سے 1995 کے وقف قانون تک یہ انتظام تھا کہ صرف مسلمان ہی وقف کرسکتے ہیں۔ 2013 میں الیکشن سے قبل ایک قانون بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی وقف کر سکتا ہے۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔