Bharat Express DD Free Dish

Chief Justice Bhushan Ramakrishna Gavai: دہلی کی خستہ حال سڑکوں پر  پھوٹا سپریم کورٹ کا غصہ ، جسٹس گوئی نے کہا: دو گھنٹے بارش ہو جائے تو شہر ہوجاتا ہے مفلوج

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

چیف جسٹس آف انڈیا، بھوشن رام کرشن گوئی نے کہا ہے کہ صرف دو گھنٹے کی بارش سے دہلی شہر مفلوج ہو جاتا ہے۔ یہ تبصرہ انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کی ایک درخواست پر سماعت کے دوران دیا، جو کیرالہ ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

چیف جسٹس بی آر گوئی، جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ اس کیس کی سماعت کر رہی تھی، جو کیرالہ ہائی کورٹ کے اُس حکم سے متعلق تھا جس میں ایک قومی شاہراہ پر ٹول وصولی بند کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ نے سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے ٹول کی وصولی رکوا دی تھی۔ این ایچ اے آئی کی اس فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

سماعت کے دوران ایک وکیل نے سپریم کورٹ کے باہر لگنے والے ٹریفک جام کا ذکر کیا، جس پر چیف جسٹس نے دہلی میں بارش کے بعد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “دو گھنٹے بارش ہو جائے تو پورا شہر مفلوج ہو جاتا ہے۔”

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، کیرالہ ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے-544 پر واقع 65 کلومیٹر طویل ایڈاپلی-مینوتھی سڑک کی خراب حالت کے باعث تریشور ضلع کے پیلیئککارا ٹول بوتھ پر ٹول وصولی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ این ایچ اے آئی کے ساتھ گرووایور انفرااسٹرکچر لمیٹڈ نے بھی اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت سماعت کر رہی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس سڑک پر 12 گھنٹے طویل ٹریفک جام لگتا ہے۔ عدالت نے 14 اگست کو اس معاملے پر سماعت میں دلچسپی نہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ جب سڑکیں اچھی حالت میں نہیں ہیں تو عوام سے ٹول کیسے لیا جا سکتا ہے؟ لوگ لمبے جام میں پھنسنے پر مجبور ہیں۔

این ایچ اے آئی کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ 12 گھنٹے طویل جام اس لیے لگا کیونکہ وہاں ایک لاری الٹ گئی تھی۔ اس پر عدالت نے جواب دیا کہ “لاری خود سے نہیں الٹی، بلکہ گڑھے کی وجہ سے الٹی۔”

تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ جہاں انڈر پاس کا کام جاری ہے، وہاں متبادل سڑکیں بنائی گئی ہیں، لیکن مون سون کی وجہ سے انڈر پاس کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس بی آر گوئی نے این ایچ اے آئی سے پوچھا کہ اس 65 کلومیٹر کی سڑک کے لیے کتنا ٹول وصول کیا جاتا ہے؟ جواب میں بتایا گیا کہ 150 روپے کا ٹول ہے۔ چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی 150 روپے کیوں دے گا اگر اسے 12 گھنٹے طویل جام میں ہی پھنسنا ہے؟ ایک گھنٹے کے راستے میں عوام کو 11 گھنٹے اضافی لگ رہے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے بعد این ایچ اے آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read