Bharat Express DD Free Dish

Dr. LM Singhvi Memorial Lecture: انسانی وقار آئین کی روح ہے — ’21ویں صدی میں عدالتی فکر‘ کے موضوع پر چیف جسٹس بی آر گوئی کا جندل گلوبل یونیورسٹی میں خصوصی لیکچر

’21ویں صدی میں عدالتی فکر‘ کے موضوع پر ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی یادگاری لیکچر میں چیف جسٹس کا خطاب، کہا — قیدی بھی انسان ہیں، جانور نہیں، آئین نے ہر فرد کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا ہے

چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے کہا کہ آج میں جس مقام پر ہوں، وہ بھارتی آئین اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے وژن کا نتیجہ ہے۔ آئین سازوں کے لیے انسانی وقار ایک مرکزی فکر تھی اور مختلف قسم کی تحقیر و امتیاز کو ختم کرنے کے لیے آئین کو ایک حل کے طور پر تیار کیا گیا۔ آئین نے وقار کو آزادی، مساوات، اخوت اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے ساتھ جوڑا ہے، جو قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کے لیے ضروری ہیں۔ ’21ویں صدی میں عدالتی فکر‘ کے موضوع پر جندل گلوبل یونیورسٹی میں ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی یادگاری لیکچر میں چیف جسٹس نے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

آئینی دفعات میں وقار کا مقام

چیف جسٹس نے کہا کہ اگرچہ آئین کے حصہ سوم میں ’وقار‘ کا لفظ براہ راست درج نہیں، لیکن عدلیہ نے اپنی تشریح میں اسے بنیادی حقوق کا محور تسلیم کیا ہے۔ آرٹیکل 14 ریاستی اقدامات میں من مانی کو روکتا ہے، آرٹیکل 15 اور 16 امتیازی سلوک اور مواقع کی عدم مساوات کو ختم کرتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 19 شہریوں کی اظہارِ رائے، تعلق قائم کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت کی آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، آرٹیکل 21 زندگی اور ذاتی آزادی میں عزت کے ساتھ جینے، ذاتی خودمختاری، جسمانی سلامتی اور ذلت سے آزادی کو شامل کرتا ہے۔

انسانی وقار اور عدالتی رویہ

چیف جسٹس کے مطابق یہ تمام دفعات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ انسانی وقار کا تحفظ اور فروغ بنیادی حقوق کے ڈھانچے میں ایک متحد اصول ہے۔ بھارت میں انسانی وقار کے اصول کو 1970 کی دہائی کے آخر میں عدالتی سطح پر تسلیم کیا گیا، خاص طور پر اس وقت جب جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ عدالتوں نے قرار دیا کہ آزادی سے محروم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ قیدی کو تحقیر یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے، بلکہ حراست میں بھی اس کے انسانی حقوق برقرار رہتے ہیں۔

’’قیدی انسان ہیں، جانور نہیں‘‘

سنیل بترہ بنام دہلی ایڈمنسٹریشن مقدمے میں سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے زیرِ سماعت قیدیوں، سزا یافتہ مجرموں اور سزائے موت پانے والوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا نوٹس لیا۔ جسٹس کرشنا ایئر نے واضح کیا کہ جیل حکام آئینی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں اور بنیادی حقوق کی پامالی ایک ادارہ جاتی توہین ہے۔ عدالت نے یہ تاریخی الفاظ کہے کہ ’’قانون کی نظر میں قیدی انسان ہیں، جانور نہیں‘‘ اور عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ جیل کے ان محافظوں کو جوابدہ بنائے جو انسانی وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس ارو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read