Bharat Express DD Free Dish

CJI Says Freedom Is a Duty Too: ’’آزادی صرف جشن نہیں، ذمہ داری بھی ہے‘‘، یومِ آزادی پر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی کا خطاب

جسٹس گوئی نے کہا کہ یومِ آزادی صرف قومی ترانے یا پرچم کشائی کا دن نہیں، بلکہ یہ ان قربانیوں کی یاد ہے جنھوں نے ہمیں یہ آزادی دی۔

یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے کہا کہ آزادی صرف جشن منانے کا موقع نہیں، بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہم پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہے، ایک ایسا بھارت بنانے کی جو مساوات، آزادی اور بھائی چارے پر قائم ہو۔

قانونی برادری کی نمائندگی اور تقرری کا عمل

چیف جسٹس گوئی نے وکلا برادری کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کالیجیم مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت وکلا کی ہائی کورٹس کے لیے سفارش کرتا رہا ہے اور اس عمل میں شفافیت اور اہلیت کا خیال رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں مساوی آئینی عدالتیں ہیں اور تقرری کے عمل میں پہلا قدم ہائی کورٹ کالیجیم کو لینا ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ججوں کی جانب سے امیدواروں سے براہِ راست انٹرویوز کا سلسلہ بھی مفید ثابت ہو رہا ہے، جس سے ان کی صلاحیت اور معاشرتی خدمت کا جذبہ بہتر طور پر جانچا جا سکتا ہے۔

یومِ آزادی: جشن سے زیادہ

جسٹس گوئی نے کہا کہ یومِ آزادی صرف قومی ترانے یا پرچم کشائی کا دن نہیں، بلکہ یہ ان قربانیوں کی یاد ہے جنھوں نے ہمیں یہ آزادی دی۔ انھوں نے 1855 کے سنتھال بغاوت سے لے کر 1857 کی جنگِ آزادی، جیوتی با پھولے اور ساوتری بائی پھولے کی سماجی اصلاحات، برسا منڈا کی بغاوت، رابندرناتھ ٹیگور کے اشعار، گاندھی جی کی عدم تشدد پر مبنی جدوجہد اور ڈاکٹر امبیڈکر کی آئین سازی تک تمام تاریخی لمحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری مشترکہ قومی میراث ہے۔

خواتین، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی تعلیم و آزادی کو اہم قرار دیا

چیف جسٹس نے پھولے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس وقت کی معاشرتی بیڑیوں کو توڑ کر لڑکیوں اور دلتوں کی تعلیم کے لیے آواز بلند کی۔ انھوں نے گاندھی جی کی اس بات کو بھی دہرایا جس میں وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت سب سے کمزور اور محروم فرد کو ذہن میں رکھو۔

قانونی برادری کی ذمہ داری: ہر مقدمہ اہم ہے

چیف جسٹس گوئی نے وکلا کو یاد دلایا کہ ہر مقدمہ، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ لگے، کسی کے لیے زندگی، عزت یا بقا کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وکلا کا کام صرف قانون کی تشریح نہیں، بلکہ انصاف کے حصول کے لیے اخلاقی قیادت دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے فیصلے اور دلائل صرف عدالتوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ بھارت کے سماجی و اخلاقی تانے بانے کو تشکیل دیتے ہیں۔‘‘

آزادی، مساوات اور بھائی چارہ—ہمارا آئینی فرض

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جمہوریت اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک اس کی بنیاد سماجی جمہوریت پر نہ ہو۔ انھوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کے الفاظ یاد دلائے کہ ’’اگر آج کے بعد کوئی غلطی ہوتی ہے تو ہم اس کا الزام انگریزوں کو نہیں دے سکتے، قصوروار ہم خود ہوں گے۔‘‘ انھوں نے زور دیا کہ عدلیہ اور قانونی برادری کو آئینی اقدار کا محافظ بن کر کام کرنا چاہیے۔ آزادی کو وسعت دینا، محروم طبقات کے حقوق کا تحفظ کرنا، اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انھوں نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سنتھال برادری کی بیٹی کا ملک کی سب سے بلند آئینی عہدے تک پہنچنا بھارت کے سفر کی علامت ہے، لیکن ابھی مساوات، انصاف اور شمولیت کے خواب کی تکمیل باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آئیے ہم ایسا بھارت بنائیں جہاں کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے، کوئی عورت عدم تحفظ کا شکار نہ ہو اور کوئی شہری اتنا چھوٹا نہ ہو کہ اسے سنا نہ جائے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔