Bharat Express DD Free Dish

Canada Government

چین کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو ’’گورنر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کینیڈا ایسا کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

آنند سنگاری نے کہا، "کینیڈا میں ہرایک کواپنے گھراورکمیونٹی میں محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔ بشنوئی گینگ نے مخصوص کمیونٹیز کو دہشت گردی، تشدد اوردھمکیوں سے نشانہ بنایا ہے۔"

اس فیصلے کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کینیڈین کمپنیوں کو امریکہ میں اپنے یونٹ لگانے کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ امریکہ میں کاروبار شروع کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کو تیز، پیشہ ورانہ اور باقاعدہ منظوری مل جائے گی۔

ٹرمپ کے مطابق اس نظام کی تکمیل 2029 تک ہو جائے گی اور اس کی لاگت تقریباً 175 بلین ڈالر ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کینیڈین حکومت نے اس پروگرام میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن اسے اپنا ’مناسب حصہ‘ ادا کرنا ہوگا۔

کینیڈا کے تعلیمی نظام میں ہندوستانی طلباء کا کردار بہت اہم ہے۔ سال 2022 میں ہندوستان سے اسٹڈی پرمٹ رکھنے والوں کی تعداد میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ کل 3,19,000 سے زیادہ ہے۔

ملک واپس آنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں ورما نے اس بات کو دوہرایا کہ نام نہاد جاری جانچ کے بارے میں کینیڈا کے عہدیداروں نے ان کے ساتھ ’ایک بھی ثبوت‘ شیئر نہیں کیا۔

کینیڈین وزیر اعظم نے کہا، "میں نے جی 20کے آخر میں پی ایم مودی کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا اور بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہندوستان اس میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں بہت سے لوگ بھارتی حکومت کے خلاف بولتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو گرفتار کیا جائے۔

امیگریشن سروسز فرم کے بانی کین نکل لین کے مطابق اس قانون میں ترمیم غیر مقیم ہندوستانیوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گی کیونکہ کینیڈا میں غیر مقیم ہندوستانیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تعلقات رکھنے والے کینیڈین یہاں کی شہریت حاصل کر سکیں۔

درحقیقت، سڑکوں، فٹ پاتھوں، کار پارکنگ، مکانات وغیرہ جیسے پکی جگہوں پر کنکریٹ کی وجہ سے پانی اتنی تیزی سے خشک نہیں ہوتا ہے۔ یہ اوور فلو ہو کر سڑکوں پر بہنے لگتا ہے یا نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔کینیڈا میں یہ مسئلہ اور بھی بڑا ہے کیونکہ وہاں نہ صرف بارش ہوتی ہے بلکہ شدید برف باری بھی ہوتی ہے۔

روی پرکاش سنگھ، چیئر، انڈو-کینیڈا چیمبر آف کامرس (البرٹا) نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ انڈو-کینیڈین کمیونٹی کے تمام طبقات کو اپنے کام میں لے جانے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی ہائی کمشنر اور نہ ہی ہم نے پوسٹرز کے باوجود پروگرام منسوخ کیاہے۔