Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ
برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری اختلافات کو حل کراتے ہوئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ کی متفقہ منظوری میں کامیابی کے ساتھ کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔
Goods will not get Stuck at the Border: ’سرحد پر نہیں رکے گا سامان…‘ برکس ممالک کے نئے کسٹمز ضوابط سے بھارتی برآمد کنندگان کو بڑا فائدہ
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام اور ڈیجیٹل جانچ سے برآمد کنندگان کا وقت اور لاجسٹکس اخراجات دونوں بچیں گے
BRICS Declaration Could Strengthen India’s Trade: برکس نئی دہلی اعلامیہ سے بھارت کی تجارت، سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مل سکتا ہے فروغ
پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PHDCCI) کے مطابق برکس نئی دہلی اعلامیہ بھارت کی برآمدات، ایم ایس ایم ایز، مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔
BRICS Summit 2026: پی ایم مودی نے ان 3 دنوں کے دوران دنیا کے 15 سربراہان مملکت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات، مشرق وسطیٰ کے بحران اور مصنوعی ذہانت پر اہم فیصلہ
پانچویں بڑے فیصلے کے طور پر مشرق وسطیٰ اور علاقائی بحرانوں پر برکس ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خطے میں جاری بحرانوں کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، جامع اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر ایک گورننس فریم ورک تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
BRICS ِSummit 2026: ٹھوس نتائج کی امید، برکس کے اختتام پر پی ایم مودی نے چین کا کیوں کیا ذکر؟
پی ایم مودی نے کہا کہ امید ہے کہ سربراہی اجلاس میں منظور کیا گیا ’نئی دہلی اعلامیہ‘ ہماری مشترکہ سوچ اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک واضح سمت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام نتائج کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جانے والے اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا، جن کا اثر زمینی سطح پر بھی نظر آئے۔انہوں نے کہا، ہم مل کر یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارا فریم ورک صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ حقیقی زندگی میں اس کا ٹھوس اثر دکھائی دے۔‘‘
Xi Jinping Departs for China: برکس سمٹ کے بعد چین روانہ ہوئے شی جن پنگ، مودی اور شی جن پنگ کے درمیان 45 منٹ ہوئی دو طرفہ ملاقات
شی جن پنگ کا ہندوستان دورہ کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ہوا۔ ان میں بیجنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت بھی شامل ہے۔ اروناچل پردیش کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی سرگرمیوں کو لے کر خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
PM Modi In BRICS Summit 2026: برکس اوپن سیشن میں پی ایم مودی نے پیش کیا اسٹارٹ اَپ فنڈ کا منصوبہ، کہا- ادارے بھی برکس سے جڑیں
پی ایم مودی نے کہا کہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان نے برکس ممالک کو ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیار رکھنے پر زور دیا ہے۔ اس کے تحت متعدی بیماریوں کی شناخت اور روک تھام کے لیے برکس مربوط ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آفات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہی اعداد و شمار کے انضمام سے متعلق رہنما اصول بھی تیار کیے گئے ہیں۔
BRICS Summit 2026: ملائیشیا کے وزیر اعظم نے غزہ اور مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر کی بات چیت
عشائیے کے دوران جب پیانو پر دھن بج رہی تھی تو ملائیشیا کے وزیر اعظم نے 1965 کی فلم ’تین دیویاں‘ کا گانا ’خواب ہو تم یا کوئی حقیقت‘ گانا شروع کر دیا۔ کشور کمار کے اس مشہور گانے کی دھن پورے ہال میں گونجنے لگی۔ انور ابراہیم کی شاندار پیشکش نے پوری شام کو خوشگوار بنا دیا۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران منعقدہ عشائیے سے متعلق معلومات شیئر کیں۔
BRICS Summit 2026: برکس کے عشائیے میں کیوں شامل نہیں ہوئے شی جن پنگ؟ سامنے آئی وجہ
برکس سربراہی اجلاس 2026 میں 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے لیڈروں کے علاوہ کئی دیگر بین الاقوامی تنظیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں۔شی جن پنگ ہفتہ کی دوپہر نئی دہلی پہنچے تھے اور انہوں نے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔
Iranian President Masoud Pezeshkian: ایران کبھی ہار نہیں مانے گا، امریکہ پر برسے پیزشکیان، برکس سربراہی اجلاس سے دی سخت وارننگ
پیزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، ’’اگر امریکی جنگجو ہیں تو انہیں ہماری بہادر فوج کا سامنا کرنے دیں۔ عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے، کھانے پینے کی اشیا اور روزگار کے ذرائع پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے؟





