Bharat Express DD Free Dish

BJP government

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کے فصیل سے 80ویں یوم آزادی تقریب میں ملک کو خطاب کیا۔ وہیں اس بار بھی کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سابق صدر اور ایم پی راہل گاندھی نے شرکت نہیں کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس ماہ کے آخر میں مغربی بنگال کا دورہ کر سکتے ہیں۔ یہ دورہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے موقع پر ہونے کا امکان ہے۔

سماج وادی پارٹی نے چندہ کی چوری سے متعلق آج ایک بارپھر پارلیمنٹ احاطے میں انوکھا احتجاج کیا۔ ممبران پارلیمنٹ چندے کی بوری لے کرآج پارلیمنٹ پہنچے۔ احتجاج کے دوران ایس پی ایم پی ڈمپل یادو نے کہا، "یہ لوگ سناتن دھرم کی بات کرتے تھے، لیکن انہوں نے آستھا (عقیدت) کے نام پرچوری کی ہے۔"

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔

عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

دہلی کے بعد اب بہار طلبہ تحریک کا نیا مرکز بن گیا ہے۔ سیوان میں مبینہ اے کے-47 فائرنگ اور طلبہ کی گرفتاریوں کے سلسلے میں شدید سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔

ترجمان سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا- "ہمیں متعدد رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں کہ آسام، مغربی بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں مختلف سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ طلباء اور دیگر مظاہرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حراست میں لیا جا رہا ہے یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر گہری تشویش ہے،" سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج یہ ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات بدتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو انہوں نے کھلی جیل بنایا ہے، پورے ملک کو یہ کھلی جیل بنا دیں گے۔ حکومت بہت مغرور ہوگئی ہے۔ اب اگر تبدیلی لائیں گے تو یہی نوجوان لائیں گے۔

جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری رہا۔ اس دوران سی جے پی کے مرکزی ترجمان سوربھ داس نے کہا کہ ہمارا وقت قیمتی ہے اور ہم مرکزی وزیر جے پی نڈا سے اسی وقت ملاقات کریں گے، جب وہ ہماری مطالبات کو تسلیم کرنے اور انہیں پورا کرنے پر آمادہ ہوں۔