Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہندوغیرمنقسم خاندان کو چھوا نہیں گیا ہے۔ کیوں؟ اگر آپ جانشینی اور وراثت کے لیے یکساں قانون چاہتے ہیں تو ہندوؤں کو اس سے باہرکیوں رکھا گیا ہے؟

اترپردیش میں سماجوادی پارٹی، کانگریس اورآرایل ڈی الائنس کا حصہ ہیں۔ وہیں لوک سبھا الیکشن 2024 سے متعلق سماجوادی پارٹی نے اپنے 16 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔

اسد الدین اویسی نے بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کو بھارت رتن دینے کے اعلان پر تنقید کی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ عبادت گاہوں کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا، "جج صاحب کی ریٹائرمنٹ کا آج آخری دن تھا، 17 جنوری کو ایک ریسیور مقرر کیا گیا تھا، اس نے پورے کیس کا فیصلہ کیا

اویسی نے کہا کہ 2015 سے میں کئی دانشوروں اور سیاسی لیڈروں سے میں گالیاں کھا رہا ہوں کیونکہ میں نے بہار میں مہا گٹھ بندھن کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ تب بھی اور 2022 میں بھی میں نے کہا تھا کہ نتیش کمار بی جے پی میں واپس جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کی سیاسی سمجھ کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دانشور ہر بار غلط ثابت ہوئے۔

ایم آئی ایم کے ترجمان سید عاصم وقار نے ایک پروگرام میں کہا کہ اتراکھنڈ، اتر پردیش، گوا اور تمام ریاستوں میں مختلف قوانین ہیں۔ جو پورے ہندوستان میں نافذ نہیں ہو رہا وہ علاقائی قانون ہے۔ گمراہ نہ کریں

اویسی نے مزید دعویٰ کیا کہ نتیش کمار جب تک زندہ ہیں وزیر اعلیٰ بننے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کو لگتا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں انہیں وزیر اعلیٰ رہنا چاہئے۔

اسد الدین اویسی نے اس سیاسی تنازعہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ نتیش کمار کے گرینڈ الائنس سے علیحدگی پر انہوں نے کہا کہ اب بہار میں نتیش کمار ہی نام کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ حکومت آر ایس ایس کے لوگ اور پی ایم مودی چلائیں گے

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بہار کے موجودہ سیاسی حالات سے متعلق وزیر اعلیٰ نتیش کمارپر طنزکیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک پرانے بیان کو ری ٹوئٹ کیا ہے۔

گیان واپی مسجد کی 839 صفحات پرمشتمل اے ایس آئی رپورٹ سے متعلق مسلم فریق کی طرف سے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل اخلاق احمد نے ریسیو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو فریق ایکسپریٹ نہیں ہے، جو کسی بلڈنگ کو دیکھ کر بتا سکے کہ پتھر کتنا پرانا ہے۔ ایسا اے ایس آئی کی رپورٹ میں بھی نہیں لکھا ہے۔