Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

ایس پی اور بی ایس پی نے مغربی یوپی میں زیادہ تر سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ کئی نشستوں پر ٹکٹوں کے حوالے سے باغیانہ رویہ بھی نظر آرہا ہے۔ پارٹی بدلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اویسی کے لیڈران  ان تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ امتیاز جلیل اورنگ آباد سے اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار ہوں گے، جبکہ اختر الایمان کشن گنج سے الیکشن لڑیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اویسی خود حیدرآباد سے الیکشن لڑیں گے۔

این ایس یو آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار ملازمین کو برطرف کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔این ایس یو آئی نے کہاکہ کیا گجرات یونیورسٹی میں غیر ملکی شہری محفوظ نہیں ہیں؟ سیکورٹی اور ترقی کے دعوے کے تحت، نظام تعلیم کے لیے گجرات آنے والے غیر ملکی شہریوں کو نہیں بچا یا جاسکتا۔

lok Sabha Elections 2024: لوک سبھا الیکشن سے پہلے مرکزی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد اس کی مخالفت ہورہی ہے۔

ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا، "بی جے پی ، ٹی ایم سی، کانگریس، بی آر ایس، ڈی ایم کے، بی جے ڈی، ایس پی، وائی ایس آر، شیو سینا، تقریباً تمام پارٹیوں نے انتخابی بانڈز کے ذریعے چندہ لیا

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یعنی اے آئی ایم آئی ایم اتر پردیش میں اکیلے لوک سبھا الیکشن لڑنے جا رہی ہے۔ حیدرآباد کے ایم پی اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم یوپی میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتی تھی، لیکن جب بات نہیں بنی تو اس نے اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔

اویسی کی پارٹی مسلم اکثریتی سیمانچل کی چاروں سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ کل 11 سیٹوں پر لڑ رہے ہیں۔ اگر اے آئی ایم آئی ایم آر جے ڈی اور کانگریس کے مسلم ووٹ بینک میں اپنا شیئر نکالتے ہیں تو این ڈی اے کو براہ راست فائدہ ہوسکتا ہے۔ فی الحال این ڈی اے اورمہاگٹھ بندھن  میں سیٹوں کی تقسیم نہیں ہوئی ہے۔

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) نافذ ہونے کے بعد ایک طرف جہاں اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی پرحملہ کر رہی ہیں تو وہیں کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرہ بھی کئے جا رہے ہیں۔

اسد الدین اویسی نے شہریت قانون کے نوٹیفکیشن کے معاملے پر مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا سی اے اے پر ہمارا اعتراض جوں کا توں ہے۔ سی اے اے تفرقہ انگیز ہے اور گوڈسے کے نظریے پر مبنی ہے

تین رکنی الیکشن کمیشن آف انڈیا میں پہلے ہی ایک اسامی خالی تھی اور اب ارون گوئل کے استعفیٰ کے بعد انتخابی پینل میں صرف مسٹر کمار ہی رہ گئے ہیں۔