Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi

اسد الدین اویسی کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پریہ لکھاگیا’ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے ہم اپنے حوصلے بلند رکھیں اور بزدلی کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر اکبر الدین اویسی کانگریس کے ٹکٹ پر کوڈنگل سے الیکشن لڑتے ہیں تو ان کی جیت کو یقینی بنانا میری ذمہ داری ہوگی۔

نشی کانت دوبے کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایک نئی بات کہی گئی کہ بنگلہ دیشی جھارکھنڈ میں داخل ہو گئے ہیں اور قبائلیوں کی آبادی کو کم کر رہے ہیں۔ جب جھارکھنڈ کی بنگلہ دیش سے سرحد نہیں ہے تو وہ کہاں سے آئے؟

سال 1966 میں اس وقت کی کانگریس حکومت نے آرایس ایس کے پروگراموں میں سرکاری ملازمین کے شامل ہونے پرپابندی لگائی تھی۔ اب حکومت نے اس پابندی کوہٹا دیا ہے۔ حکومت کے فیصلے پرمجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے حملہ کیا ہے۔

بتا دیں کہ اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ایسا حکم جاری کیا ہے، جس سے سیاست گرم ہوگئی ہے۔ حکومت نے کانوڑ یاترا کے راستے پر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے تمام دکانداروں کو اپنا نام لکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس فیصلے سے پہلے یوپی کے مظفرنگر، پھرشاملی اور سہارنپور پولیس نے یہ فیصلہ لیا تھا، جس کی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے سخت مخالفت کی جارہی تھی۔ اب یوگی آدتیہ ناتھ نے پورے یوپی میں یہ حکم نافذ کردیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہندوستان کے پانچ بڑے جھوٹوں میں سے ایک ہیں۔ سچ یہ ہے کہ 1951 میں آسام میں مسلمانوں کی آبادی 24.68 فیصد تھی۔

 یوپی کی مظفرنگرپولیس نےکانوڑیاترا 2024 سے متعلق ایک متنازعہ حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس سے سیاسی ہنگامہ آرائی ہورہی ہے۔ پولیس نے کانوڑ یاترا کے راستوں میں آنے والے سبھی ریسٹورنٹ، دکانوں، ہوٹلوں اورٹھیلے والوں سے اپنی دکان کے آگے نام لکھنے کی ہدایت دی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اترپردیش کی حکومت چھوا چھوت کو پرموٹ کر رہی ہے۔ مظفرنگر کے ڈھابوں سے مسلمانوں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ کیا آپ ایک ہی طبقے کے لئے کام کریں گے؟

اترپردیش پولیس کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کانوڑ یاترا کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایسے میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والی تمام کھانوں اور دکانوں اور گاڑیوں پر مالک کا نام لکھنے کے حکم کی توثیق کر دی گئی ہے، تاکہ کانوڑیوں کو پریشانی نہ ہو۔