Bharat Express DD Free Dish

Artificial Intelligence

مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور سی ای او ستیہ نڈیلا اگلے ماہ بھارت کے تین روزہ دورے پر آئیں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مائیکروسافٹ بھارت میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے شعبے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے پر زور دے رہی ہے۔

اسرائیل کے ورلڈ ہولوکاسٹ ریمیمبرنس سینٹر ’یاد واشیم‘ نے اعلان کیا ہے کہ نازیوں کے ہاتھوں مارے گئے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں میں سے 50 لاکھ کی شناخت کر لی گئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کی مدد سے باقی متاثرین کی پہچان بھی ممکن ہو سکے گی۔

ملک بھر میں 54 فیصد ملازمین کا ماننا ہے کہ ان کی کمپنی اے آئی کے نفاذ کے پائلٹ یا درمیانی مرحلے میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کی کارپوریٹ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی اور ڈیٹا پر مرکوز ہو رہی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی ایمیزون دنیا بھر میں 30 ہزار ملازمین کی چھٹنی کرنے والی ہے۔ اس کا اثر بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑے گا۔ بھارت میں کم از کم 1000 افراد کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ کو اس تاریخی پروجیکٹ پر گوگل کے ساتھ شراکت کرنے پر فخر ہے، جو ہندوستان کے مستقبل کو پہچان فراہم  کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے بھارت کو کئی بڑے معاشی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ یہ دعویٰ ورلڈ بینک کی ماہرِ معیشت فرانجسکا اوہنسارگے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت AI سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت اچھی پوزیشن میں ہے۔

ایچ پی سی ایل۔مِتّل انرجی لمیٹڈ نے امریکی کمپنی  ایمَر سَن کے ساتھ اشتراک کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور خودکار ٹیکنالوجی کے ذریعے ریفائنری کی کارکردگی کو جدید تربنایا جاسکے اورہندوستان اور امریکہ کے مابین توانائی کے اشتراک کو مزید تقویت دی جا سکے۔

کمپنی نے جو ہائی-ڈینسٹی سلیکون فوٹونکس پیکیجنگ پلیٹ فارم تیار کیا ہے، وہ 32 چینل فائبر ان پٹ اور آؤٹ پٹ کو سپورٹ کرتا ہے اور اس کا انسرشن لاس 2 ڈی بی سے بھی کم ہے، جو صنعت میں سب سے بہترین ہے۔

بھارت کی AI کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی، مگر اسے ہر روز ایسے ہی رہنما تشکیل دے رہے ہیں جو درست سوالات پوچھ رہے ہیں، مقصد کے ساتھ تخلیق کر رہے ہیں اور ایسے انداز میں قیادت کر رہے ہیں جو واقعی معنی رکھتی ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اس شمار میں پرندوں کی 40 سے زائد اقسام کی نشاندہی کی گئی جن میں کئی نایاب پرندے بھی شامل ہیں۔ یہ سب ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہوا۔ ٹیم نے آواز ریکارڈ کرنے والے آلات نصب کیے اور پھر ان آوازوں کا تجزیہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے ذریعے کمپیوٹر پر کیا گیا۔