Bharat Express DD Free Dish

Artificial Intelligence

بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور اس سے جڑے سماجی خطرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر انسانی اقدار اور سماجی انصاف سے دور ہو جائے تو یہ معاشرے میں نئی قسم کی ناانصافیاں پیدا کر سکتی ہے۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کی برتری نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ChatGPT، Gemini اور Grok جیسے اے آئی ماڈلز بھی اس سیاسی تبدیلی کو مختلف زاویوں سے سمجھا رہے ہیں۔ کہیں اینٹی انکمبنسی کو وجہ بتایا جا رہا ہے تو کہیں بدعنوانی اور بے روزگاری کو۔ آخر اس بڑے سیاسی شفٹ کی اصل وجہ کیا ہے؟

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ممتا بنرجی آج بھی عوام کی پہلی پسند ہیں۔ ’بھارت ایکسپریس (AI AM Analytics)‘ کے سروے میں 41 فیصد لوگوں نے انہیں وزیر اعلیٰ کے طور پر منتخب کیا۔

اڈانی گروپ نے ملک بھر میں ایک مکمل اے آئی ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن نیٹ ورک، ڈیجیٹل کنکٹیوٹی اور جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بھارت کی ڈیجیٹل صلاحیت کو بڑھائے گا بلکہ عالمی سطح پر اسے ایک اہم ٹیکنالوجی حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی مہم سے وابستہ افراد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000، آئی ٹی رولز 2021 اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی مکمل پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی صارف بغیر واضح وضاحت کے اے آئی سے بنائے گئے جنگی ویڈیوز پوسٹ کرتا ہے تو اسے 90 دن کے لیے ریونیو شیئرنگ پروگرام سے معطل کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی بار بار قواعد کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے مستقل طور پر پروگرام سے خارج بھی کیا جا سکتا ہے۔

جامعہ ہمدرد کے سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن  نے جنوری 2026 بیچ کے آن لائن طلبہ کا شاندار استقبال کیا۔

نئی دہلی کے پرگتی میدان میں واقع بھارت منڈپم میں منعقدہ تاریخی اے آئی سمٹ کی کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عالمی اجلاس میں پوری دنیا نے بھارت کی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارت کی بھرپور ستائش کی ہے۔ انہوں نے اس سمٹ کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

تخلیقی دنیا میں بھی اے آئی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پہلے مصور، ادیب اور موسیقار اپنی تخیل سے تخلیق کرتے تھے، جبکہ اب چند ہدایات پر ڈیجیٹل تصاویر، کہانیاں اور موسیقی تیار ہو جاتی ہیں۔

بھارت میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے چوتھے دن وزیراعظم مودی نے ایک تاریخی خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان کی زندگی میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے اور انسانی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کے کوڈز کو پبلک کیا جانا چاہیے تاکہ یہ دنیا کی بھلائی کے لیے استعمال ہو۔