Bharat Express DD Free Dish

X AI Grok: ایکس کے اے آئی گروک پر ہنگامہ، خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال پر پریانکا چترویدی برہم

پریانکا چترویدی نے سوال اٹھایا کہ اگر اے آئی پلیٹ فارمز اس طرح کے خطرناک پرامپٹس کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو خواتین کی ڈیجیٹل سکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔آئی ٹی اور کمیونیکیشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن کی حیثیت سے انہوں نے وزیر سے اپیل کی کہ اس معاملے کو ایکس اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سختی سے اٹھایا جائے۔

راجیہ سبھا کی رکن اور شیو سینا یو بی ٹی کی رہنما پریانکا چترویدی نے سوشل میڈیا پر خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ناجائز استعمال کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے آئی ٹی اشونی ویشنو کو خط لکھ کر ایکس پلیٹ فارم کے اے آئی فیچر گروک کے ذریعے خواتین کو سیکشوئلائز کرنے اور ان کی تصاویر کو غیر اخلاقی انداز میں پیش کرنے کے بڑھتے واقعات پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خط حالیہ دنوں میں سامنے آئے ڈیجیٹل ہراسانی کے معاملات کے بعد لکھا گیا ہے۔پریانکا چترویدی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا، خصوصاً ایکس پر ایک خطرناک رجحان سامنے آ رہا ہے، جہاں کچھ مرد جعلی اکاؤنٹس بنا کر خواتین کی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں اور گروک کو ایسے پرامپٹس دے رہے ہیں جن کے ذریعے تصاویر میں کپڑے کم دکھائے جائیں اور انہیں جنسی رنگ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ غلط استعمال صرف جعلی اکاؤنٹس تک محدود نہیں ہے بلکہ ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو خود اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں۔ پریانکا کے مطابق یہ اے آئی ٹیکنالوجی کا کھلا غلط استعمال ہے اور کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ خط میں انہوں نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی کہ گروک ایسے مطالبات پر عمل کر رہا ہے، جس سے اس طرح کے رویے کو مزید بڑھاوا مل رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ خواتین کے حقِ رازداری کی صریح خلاف ورزی ہے اور ان کی تصاویر کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ مجرمانہ عمل کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

پریانکا چترویدی نے سوال اٹھایا کہ اگر اے آئی پلیٹ فارمز اس طرح کے خطرناک پرامپٹس کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو خواتین کی ڈیجیٹل سکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔آئی ٹی اور کمیونیکیشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رکن کی حیثیت سے انہوں نے وزیر سے اپیل کی کہ اس معاملے کو ایکس اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ سختی سے اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایپس میں واضح حدود طے کرنا ضروری ہے تاکہ خواتین کی عزت و وقار مجروح نہ ہو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خواتین کے لیے محفوظ جگہ بن سکیں۔ خط کے آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ ملک خواتین کی عوامی اور ڈیجیٹل بے عزتی کا خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اس معاملے کو ترجیح دے گی اور واضح پیغام دے گی کہ اے آئی کا خیرمقدم ہے، مگر خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے توہین آمیز یا مجرمانہ عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read